جب اندرا جی کی قیادت پر ووٹِنگ ہوئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس کو انیس سو باسٹھ کے انتخابات میں بہت بڑی کامیابی ملی تھی مگر اس کے بعد چین کے ساتھ جنگ ہوگئی جس سے ملک کا تو نقصان ہوا ہی، ساتھ ہی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو ذاتی طور پر بڑا دھچکا پہنچا۔ انیس سو چونسٹھ میں جواہر لعل نہرو کی موت کے بعد کانگریس کے سربراہ کے کامراج نے کافی محنت سے قیادت کا مسئلہ سلجھایا اور لعل بہادر شاستری کو ملک کی قیادت سونپ دی گئی۔ پھر جب لعل بہادر شاستری کی موت ہوئی تب پہلی بار کانگریس میں قیادت کے لئے چناؤ ہوا جس میں اندرا گاندھی ایک خاص سِنڈیکیٹ یعنی گروہ کی حمایت سے جیت گئیں۔ جن لوگوں نے اندرا گاندھی کو کامیابی دلوائی تھی وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ایک کمزور وزیراعظم ثابت ہوں گی۔ مگر وقت نے ان سبھی لوگوں کو غلط ثابت کردیا۔ پھر انیس سو سڑسٹھ کا پہلا انتخاب تھا جس میں اندرا گاندھی عوام کے درمیان انتخابی میدان میں اتریں۔ جس سے یہ ثابت ہونا تھا کہ اندرا گاندھی کی قیادت والی کانگریس کو عوام کی حمایت حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔ اس وقت ہندو پرست تنظیم جن سنگھ نے ’گائے کشی‘ کے خلاف بیان دیا۔ پھر جب انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو کامیابی کا فرق زیادہ نہیں تھا اور کسی حد تک ہم کہہ سکتے ہیں کہ حزب اختلاف پہلی بار مضبوط شکل میں ابھر کر منظر عام پر آئی۔
پہلے کچھ انتخابات تک تو حزب اختلاف کمزور رہی تھی اور ایک وقت ایسا بھی تھا جب انیس سو ستاون میں نہرو نے خود کہا تھا کہ حزب اختلاف کے رہنما آچاریہ کرِپلانی اور کچھ دیگر بڑے رہنماؤں کے خلاف کانگریس امیدوار نہیں کھڑا کرے۔ انیس سو سڑسٹھ میں صورتحال بدل گئی۔ اس وقت سوتنرتا پارٹی وجود میں آئی۔ یہ پارٹی راج گوپالاچاری نے بنائی تھی جن کی سوچ کانگریس سے مختلف تھی۔ پیلو مودی اور مینو مسانی جیسے کئی بڑے رہنما بھی اس میں شامل تھے۔ انیس سو سڑسٹھ کے بعد تو میں خود بھی حکومت میں رہا اور کئی وزارتوں کا نظم و نسق سنبھالا۔ لیکن اس کے بعد بڑی تبدیلیاں آئیں۔ انیس سو اکہتر میں جنگ ہوئی اور انیس سو بہتر میں انتخابات ہوئے۔ اس وقت اندرا جی کی شخصیت کافی قدآور تھی۔ جنگ کے بعد ایک بار پھر اندرا گاندھی ہی الیکشن کا مسئلہ بن گئیں۔ ان کے علاوہ ووٹروں نے ان کی حکومت کی پالیسیوں پر بھی ووٹِنگ کی۔ اس انتخاب کے بعد حزب اختلاف کے بڑے رہنماؤں کی شکل میں اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی جیسے لیڈر ابھر کر سامنے آئے۔ اس وقت کانگریس زوال کے راستے پر چل پڑی تھی۔ تب اور اب میں کافی فرق آگیا ہے۔ اب انتخابات کافی مہنگے بھی ہوگئے ہیں۔ اس وقت عام طور پر جو لوگ انتخاب لڑتے تھے ان کے اخلاق پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ سب کی عزت تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||