کئی معنوں میں انوکھا چناؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمارے لیے سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کی عوام کو ایک بار پھر چناؤ کا موقع مل رہا ہے۔ ہمیں آزادی ملے اتنے سال ہو گئے ہیں اور یہ بھی ہمارے دیس کی کامیابی ہے کہ ہم مشکل حالات میں بھی کبھی چناؤ سے دور نہیں ہوئے۔ اس بار کے انتخابات تو کئی معنوں میں انوکھے ہیں، مثلاً یہ پہلا چناؤ ہے جس میں نئی نسل کے لوگ اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ جب میں انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے دوران ہونے والے انتخابات کو یاد کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس وقت انتحابی مہم کا ڈھنگ الگ ہوتا تھا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور میں یا ہمارے دور میں انتخابات ’سٹڈی سرکل‘ کی شکل اختیار کر لیتے تھے۔ پنڈت نہرو ہر چناؤ میں لوگوں کو خارجہ پالیسی کے بارے میں بتاتے اور سمجھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: ’چناؤ ایک طرح کی تعلیمی مہم ہوتے ہیں‘ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
میڈیا کا اثر بڑھا ہے اور چناؤ مارکیٹنگ بن کر رہ گیا ہے۔میڈیا کی وجہ سے لوگوں کو چناؤ، امیدواروں اور لگ بھگ ہر چیز کے بارے میں کافی کچھ پتہ چل جاتا ہے اور وہ کافی باشعور ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چناؤ مارکیٹنگ کا اثر بڑھنے سے یہ ہوا ہے کہ پارٹی کے جتنے بھی ترجمان ہیں وہ مارکیٹنگ پر دھیان دے رہے ہیں۔ اس بار کے چناؤ میں جہاں تک اشوز یا مدعوں کی بات ہے تو پہلے بھی خارجہ پالیسی، اقتصادی پالیسی، غربت، ذات پات اور زرعی اصلاحات جیسے مسائل انتہائی اہم ہوا کرتے تھے اور آج بھی اہم ہیں، بس فرق صرف اتنا ہے کہ آج ان باتوں پر دھیان نہیں دیا جا رہا۔ مخصوص نشستوں سے بھی فرق پڑا ہے اور جماعتوں کی بات کی جائے یا اب جماعتوں کی تعداد بڑھی ہے۔ لیکن میں تو یہ مانتا ہوں کہ اس وقت حکومت میں اونچی ذات والوں ہی کا بول بالا تھا لیکن کوٹہ متعارف ہونے کے بعد ہر طرح کے لوگ باشعور ہو گئے ہیں۔ اب عام آدمی بھی جاننا چاہتا ہے کہ اس کے لیے کیا ہو رہا ہے۔
یہ جو مخلوط حکومتوں کا دور ہے کافی اچھا ہے کیونکہ اس میں سبھی کو اپنی بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس دور کے چناؤ اور آج کے چناؤ کئی اعتبار سے مختلف ہیں مگر کسی بھی دور کے چناو کو سب سے اچھا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کچھ چیزیں اس وقت اچھی تھیں اور کچھ اب۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||