BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 April, 2004, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کانگریس کامیابی کی جانب؟

ریاست کے قبائلی ووٹ اہم ہیں
ریاست کے قبائلی ووٹ اہم ہیں
لوک سبھا کے یہ انتخابات کیا جھارکھنڈ کی ریاستی حکومت کی کارکردگی پر ایک رائے شماری ثابت ہوں گے؟ سن دو ہزار تک جھارکھنڈ ریاست بہار کا حصہ تھا۔ لیکن سن دوہزار میں جھارکھنڈ کے ساتھ دو اور ریاستیں یعنی اترانچل اور چھتیس گڑھ وجود میں آئیں۔ اترانچل اور چھتیس گڑھ میں حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں۔

تو کیا جھارکھنڈ میں بھی اس بار عوام حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے؟ اشارے کچھ اسی طرح کے مل رہے ہیں جس کی وجہ سے بی جے پی رہنماؤں کو فکر ہونی چاہئے۔ اس چھوٹی سی ریاست میں بی جے پی کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے جھارکھنڈ کے علاقے کی چودہ پارلیمانی نشستوں میں سے گیارہ جیتی تھیں۔ اعداد و شمار کے حساب سے دیکھیں تو اس میں کوئی غیرمتوقع بات نہیں تھی۔

بی جے پی کا گڑھ؟
جنوبی بہار کا یہ سابق حصہ جسے آج جھارکھنڈ کے نام سے ریاست کا درجہ حاصل ہے، گزشتہ عشرے میں بی جے پی کے گڑھ کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ ملک میں پہلا قبائلی علاقہ ہے جہاں بی جے پی نے مقبولیت حاصل کی۔

انیس سو چھیانوے اور انیس سو اٹھانوے کے انتخابات میں بی جے پی نے اس علاقے سے بارہ-بارہ نشستیں جیتی تھیں۔ گزشتہ دو انتخابات میں بی جے پی کو پینتالیس فیصد ووٹ ملے جبکہ اس کی کوئی مخالف جماعت پچیس فیصد ووٹ بھی حاصل نہیں کرسکی۔

کانگریس کے امکانات؟
 اگر بی جے پی کو دو فیصد ووٹ کا نقصان ہوا تو اس کی صرف پانچ نشستیں رہ جائیں گی۔ اگر نقصان صرف چار فیصد کا ہو تو بی جے پی نشستوں کی تعداد صرف تین رہ جائے گی۔اگر بی جے پی مخالف یہ اتحاد اختلافات کا شکار نہ ہوجائے یا پھر بی جے پی کوئی کرشمہ نہ کردے تو اس ریاست میں اسے حیران کن نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یوگندر یادو

اس علاقے میں اگر کسی جماعت نے بی جے پی سے بہتر کارکردگی دکھائی تھی تو وہ انیس سو اکیانوے کی بات ہے۔ جھارکھنڈ مُکتی مورچہ نامی قبائلی جماعت نے چھ نشستیں جیتی تھیں جبکہ بی جے پی نے پانچ۔ اس کے بعد جھارکھنڈ مُکتی مورچہ کے اراکین پارلیمان پر رِشوت لینے کا الزام لگا جس کی وجہ اس جماعت اور اس کے رہنما شیبو سورین کی ساکھ کو دھچکا پہنچا۔

اس کے بعد جھارکھنڈ کے قبائلی ووٹروں نے شیبو سورین اور ان کی جماعت جھارکھنڈ مُکتی مورچہ کو انتخابات میں سزا دی۔ جس کے بعد سے اس علاقے میں بی جے پی کا پرچم لہراتا رہا ہے۔

قبائلی ووٹر
ریاست جھارکھنڈ میں قبائلی لوگوں کی اکثریت ہے اور یہاں بی جے پی کی جیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس کو قبائلیوں کا زیادہ ووٹ ملتا رہا ہو۔ یہ بی جے پی کے حمایتی دیگر لوگ ہیں۔ بی جے پی نے اس علاقے میں ان قبائلی ووٹروں پر توجہ زیادہ دی ہے جنہوں نے عیسائی مذہب اختیار نہیں کیا ہے۔ ان لوگوں کو سدان کہا جاتا ہے۔

سدان کے علاوہ بی جے پی نے اونچے طبقات کے غیرقبائلی لوگ اور برسوں سے اس قبائلی علاقے میں بسنے والی مہتو برادری کو اپنی جانب راغب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

دوسری جانب جھارکھنڈ مُکتی مورچہ کو قبائلیوں، بالخصوص سنتھالوں، اور اقلیتوں کا ووٹ ملتا رہا ہے۔ ماضی میں کانگریس کو ان تمام طبقات کا ووٹ ملتا رہا اور خواتین کے بیشتر ووٹ بھی کانگریس کو ملتے تھے۔ جبکہ بی جے پی کے اکثر ووٹر مرد ہیں۔

لیکن اعداد و شمار پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ بی جے پی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ مخالف پارٹیوں کے ووٹوں کی تقسیم ہے۔ ریاست میں بی جے پی اور جھارکھنڈ مُکتی مورچہ کے علاوہ کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل بھی اہم جماعتیں ہیں۔

کانگریس ریاست کے غیرسنتھال قبائلیوں میں کافی مقبول ہے جبکہ لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل شمالی جھارکھنڈ کے غیرقبائلیوں میں مقبول سمجھی جاتی ہے۔ لیکن بی جے پی کی موجودگی ریاست کے تمام علاقوں میں ہے۔

بی جے پی کی پریشانی
ان حالات میں بی جے پی کا صحیح مقابلہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ریاست کے تینوں علاقوں میں اس کی مخالف جماعتیں اکٹھی ہوجائیں۔

انیس سو اکیانوے کے انتخابات میں یہاں جنتا دل اور جھارکھنڈ مُکتی مورچہ کا گٹھ جوڑ تھا۔ لیکن اُس بار کانگریس کے الگ لڑنے سے بی جے پی کو پانچ نشستیں ملی تھیں جبکہ کانگریس کو اکیلے اٹھارہ فیصد ووٹ ملے تھے۔ بعد میں ہونے والے انتخابات میں تمام جماعتیں الگ الگ انتخابی میدان میں تھیں اور بی جے پی چودہ میں سے بارہ پارلیمانی سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

بی جے پی کی پریشانی
 ریاست کے نئے وزیراعلی ارجن مونڈا مقبول شخصیت کے حامی ہیں لیکن پارٹی کے ذریعے عوام کی ناراضگی کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے وزیراعلی بننے کے بعد بی جے پی اسمبلی سیٹ پوریا میں ہونے والا ضمنی انتخاب ہار گئی۔ لہذا بی جے پی قیادت پریشان ہے۔
یوگندر یادو

انیس سو اٹھانوے کے انتخابات میں غیربی جے پی جماعتوں نے انتخابی اتحاد قائم کیا لیکن تب بی جے پی کے حق میں لہر تھی۔ انیس سو ننانوے کے انتخاب میں حزب اختلاف کا گٹھ جوڑ ہوتا تو بی جے پی کو پریشانی ہوتی لیکن ایسا نہیں ہوا اور چونکہ تمام جماعتوں نے الگ الگ انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا، اس لئے بی جے پی کو ایک بار پھر کامیابی ملی اور وہ بارہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

سن دو ہزار چار کے عام انتخابات میں بی جے پی کو بدلے ہوئے زمینی حقائق کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماضی کی طرح اس بار اس علاقے میں وہ نئی ریاست قائم کرنے کا نعرہ نہیں لگاسکتی کیونکہ ریاست تو اب بن چکی ہے۔ اس بات کی نشاندہی یہاں ضروری ہے کہ سن دو ہزار میں ریاست بننے کے بعد سے بی جے پی کو تمام انتخابات میں نقصانات کا سامنا رہا ہے۔

اُس بار بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعت سمتا پارٹی کو صرف بتیس فیصد ووٹ ملے تھے اور مشکل سے اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ ریاست میں آنے کے بعد سے بی جے پی کی حکومت نے کسی کامیابی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ وزیراعلی بابولعل مرانڈی کو بی جے پی کی داخلی بغاوت کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

مقامی باشندوں کے لئے سرکاری نوکریاں مختص کرنے کی پالیسی سے ریاست میں اشتعال انگیز جذبات دیکھنے کو ملے۔ مقامی باشندوں اور باہر سے آکر بسنے والے غیرقبائلیوں کے درمیان اب بھی ایک دراڑ برقرار ہے۔ نئی ریاست کے قیام سے قبائلیوں کی اپنی توقعات پوری نہیں ہوئی ہیں۔

مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ ریاست میں کوئلہ جیسے قدرتی وسائل کی لوٹ جاری ہے۔ اس بات کی نشاندہی یہاں ضروری ہے کہ وزیراعلی بابولعل مرانڈی کی پارلیمانی نشست دُمکا میں جب مئی دوہزار دو میں ضمنی انتخاب ہوا تو بی جے پی کو شکست ملی۔ شیبو سورین نے یہ انتخاب بڑی آسانی سے جیتا۔

ریاست کے نئے وزیراعلی ارجن مونڈا مقبول شخصیت کے حامی ہیں لیکن پارٹی کے ذریعے عوام کی ناراضگی کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے وزیراعلی بننے کے بعد بی جے پی اسمبلی سیٹ پوریا میں ہونے والا ضمنی انتخاب ہار گئی۔ لہذا بی جے پی قیادت پریشان ہے۔

لیکن فکر کی بات یہ بھی ہے کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں کانگریس کی قیادت میں اکٹھی ہوگئی ہیں۔

بی جے پی مخالف اتحاد
اس بار کانگریس، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، راشٹریہ جنتا دل اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے ریاست میں انتخابی اتحاد کیا ہے۔ اس میں ہر جماعت کی حمایت مختلف طبقات سے ملتی ہے۔ اس کی وجہ سے بی جے پی کو پریشانی ہوسکتی ہے۔

جھارکھنڈ مُکتی مورچہ میں سنتھال نامی قبائلیوں کا اثر ہے، جبکہ راشٹریہ جنتا دل کے ووٹروں کا تعلق جھارکھنڈ کے پسماندہ طبقات سے ہے۔ کانگریس کو ریاست کے ہر علاقے میں حمایت حاصل ہے، بالخصوص اسے جنوبی جھارکھنڈ کے قبائلیوں میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔

ہاں یہ بات بھی ہے کہ بی جے پی مخالف یہ اتحاد بھی مشکلات کا شکار ہے۔ جھارکھنڈ مُکتی مورچہ ان دو سیٹوں پر ’دوستانہ‘ انتخاب لڑنے جارہا ہے جن پر پچھلی بار کانگریس کامیاب رہی تھی۔ پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ وسیع تر اتحاد انتخابات کی تصویر بدل دے گا۔ اگراس اتحاد کو وہی وووٹ مل جائیں جو انیس سو ننانوے میں اس اتحاد میں شامل جماعتوں کو ملے تھے، تو بی جے پی کو چار سیٹوں کا نقصان ہوگا اور وہ سات نشستیں حاصل کرسکے گی۔

لیکن اگر بی جے پی کو دو فیصد ووٹ کا نقصان ہوا تو اس کی صرف پانچ نشستیں رہ جائیں گی۔ اگر نقصان صرف چار فیصد کا ہو تو بی جے پی نشستوں کی تعداد صرف تین رہ جائے گی۔اگر بی جے پی مخالف یہ اتحاد اختلافات کا شکار نہ ہوجائے یا پھر بی جے پی کوئی کرشمہ نہ کردے تو اس ریاست میں اسے حیران کن نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جھارکھنڈ کی سیاست میں ایک عنصر ایسا بھی ہے جو انتخابات کے نتائج پر غیرمتوقع طور پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ بائیں بازو کے باغی گروہ اس ریاست میں سرگرم ہیں اور یقینی طور پر وہ انتخابات میں کچھ کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد