BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت: پنجاب کی انتقامی سیاست

سیاست
سکھ مذہب ہی میں نہیں سیاست میں بھی گولڈن ٹمپل کو اہم حیثیت حاصل ہے۔
پنجاب کی علاقائی جماعت اکالی دل بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر انتخاب لڑ رہی ہے لیکن سکھوں کی بڑی اکثریت اس اتحاد سے خوش دکھائی نہیں دیتی۔

سکھ برادری سمجھتی ہے کہ اکالی بی جے پی اتحاد سے وہ اندرونی طور پر کمزور ہو گئی ہے اور سکھوں کے روایتی اتحاد میں رخنہ ڈال دیا ہے۔

بعض پنجابی سمجھتے ہیں اکالی بی جے پی اتحاد سے بچے کھچے سکھ شدت پسند عناصر الگ تھلگ ہوگۓ ہیں اور اس کا اندازہ دس مئی کو ہوگا جب پارلیمان کی تیرہ نشستوں پر ووٹ ڈالیں جائیں گے
ریاست میں اس وقت کانگریس کی حکومت ہے مگر وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کے حامیوں کی تعداد گٹھتی جارہی ہے بیشتر سکھوں کا کہنا ہے کہ وہ ابھی چوراسی کے ان فسادات کو بھولے نہیں ہیں جب وزیراعظم اندرا گاندھی کی سکھ محافظوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکت کے بعد سکھوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سکھوں کی بڑی تعداد اس بات پر شدید ناراض ہے کہ کانگریس نے ایسے امیدواروں کو انتخاب میں کھڑا کیا ہے جو ان حملوں میں براہ را ست ملوث ہیں اور ان کے خلاف کیس درج ہیں ان لوگوں کا اشارہ کانگریس رہنما جگدیش ٹایٹلر اور سجن کمار کی جانب ہے۔
دلی کی وزیراعلیٰ اور کانگریس کی سینئر رہنما شیلا دکشٹ نے اعتراف کیا کہ ماضی میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں لیکن کانگریس نے ہی سکھوں کا خیال رکھا انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے سکھ بیواؤں کے حق میں ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ مقرر کیا اور مکانوں کی ملکیت کا مسئلہ حل کیا حالانکہ مرکزی سرکار نے اسے بند کردیا تھا۔

اگرچہ بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم کی شروعات پنجاب سے کی اور واجپئی ایڈوانی نے آغاز میں ہی مختلف علاقوں کا دورہ کیا لیکن اس وقت جاری مہم میں ابھی کوئی تیزی نہیں آئی ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ کانگریس حکومت نے یہاں انتقامی سیاست شروع کر کے اصل مسائل کو فراموش کردیا ہے حالانکہ کسانوں کی مجموعی صورت حال روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے۔

انتخابی میدان میں اس بار بھی زیادہ تر پرانے چہرے ہیں۔ جن میں مشہور فلمسٹار ونود کھنہ وزیراعلیٰ کی بیگم پونیت کور سابق وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے بیٹے سکھ ویر بادل اور سابق وزیراعظم اند کمار گجرال کے بیٹے نریش گجرال شامل ہیں۔

اکثر لوگوں نے کہا کہ بھارت کی بقیہ ریاستوں میں اوپری سطح پر رشوت ستانی کا بازار گرم ہے جو پنجاب میں نچلی سطح سے شروع ہوکر اعلیٰ ایوانوں میں پہنچ جاتا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس بار پارلیمانی انتخابات کے نتایج چونکا دینے والے ہوسکتے ہیں جس میں کوئی پارٹی یہ نہیں کہ سکتی کہ وہ جیتی ہے یا ہاری ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد