بھارت: پنجاب کی انتقامی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کی علاقائی جماعت اکالی دل بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر انتخاب لڑ رہی ہے لیکن سکھوں کی بڑی اکثریت اس اتحاد سے خوش دکھائی نہیں دیتی۔ سکھ برادری سمجھتی ہے کہ اکالی بی جے پی اتحاد سے وہ اندرونی طور پر کمزور ہو گئی ہے اور سکھوں کے روایتی اتحاد میں رخنہ ڈال دیا ہے۔ بعض پنجابی سمجھتے ہیں اکالی بی جے پی اتحاد سے بچے کھچے سکھ شدت پسند عناصر الگ تھلگ ہوگۓ ہیں اور اس کا اندازہ دس مئی کو ہوگا جب پارلیمان کی تیرہ نشستوں پر ووٹ ڈالیں جائیں گے سکھوں کی بڑی تعداد اس بات پر شدید ناراض ہے کہ کانگریس نے ایسے امیدواروں کو انتخاب میں کھڑا کیا ہے جو ان حملوں میں براہ را ست ملوث ہیں اور ان کے خلاف کیس درج ہیں ان لوگوں کا اشارہ کانگریس رہنما جگدیش ٹایٹلر اور سجن کمار کی جانب ہے۔ اگرچہ بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم کی شروعات پنجاب سے کی اور واجپئی ایڈوانی نے آغاز میں ہی مختلف علاقوں کا دورہ کیا لیکن اس وقت جاری مہم میں ابھی کوئی تیزی نہیں آئی ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ کانگریس حکومت نے یہاں انتقامی سیاست شروع کر کے اصل مسائل کو فراموش کردیا ہے حالانکہ کسانوں کی مجموعی صورت حال روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے۔ انتخابی میدان میں اس بار بھی زیادہ تر پرانے چہرے ہیں۔ جن میں مشہور فلمسٹار ونود کھنہ وزیراعلیٰ کی بیگم پونیت کور سابق وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے بیٹے سکھ ویر بادل اور سابق وزیراعظم اند کمار گجرال کے بیٹے نریش گجرال شامل ہیں۔ اکثر لوگوں نے کہا کہ بھارت کی بقیہ ریاستوں میں اوپری سطح پر رشوت ستانی کا بازار گرم ہے جو پنجاب میں نچلی سطح سے شروع ہوکر اعلیٰ ایوانوں میں پہنچ جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||