BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضمنی انتخابات میں ووٹنگ جاری

ضمنی انتخابات
وزیر اعظم شجاعت حسین اور وزارت عظمیٰ کے خواہشمند شوکت عزیز
اٹک اور تھرپارکر سے قومی اسمبلی کے حلقوں میں جاری ضمنی انتخابات میں کم تعداد میں ووٹ پڑ رہے ہیں۔ سخت حفاظتی میں جاری انتخابات میں پولنگ سٹیشنوں پر جوش و خروش بہت کم ہے۔

دونوں حلقوں میں اصل مقابلہ حکمران جماعت مسلم لیگ کے امیدوار اور وزارت عظمیٰ کے خواہشمند شوکت عزیز اور حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان ہے۔

سرکاری امیدوار کے اٹک سے مد مقابل امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات جبکہ تھرپار کر سے ڈاکٹر مہیش ملانی ہیں۔

اٹک سے بی بی سی ڈاٹ کام کے نامہ نگار بتایا کہ ووٹروں کا ٹرن آوٹ کم ہے۔ لیکن ووٹنگ پر سکون ماحول میں ہو رہی ہے اور کسی جھگڑے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

پیر کے روز انتخابی مہم کے اختتام سے قبل نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کے تین کارکنان کی ہلاکت کے بعد اٹک میں ماحول خاصا کشیدہ ہے۔

پولیس حکام نے کہا تھا کہ اٹک میں اڑھائی سو تھانوں کے لیے اڑھائی ہزار کے لگ بھگ پولیس اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔

جب سے حکمران جماعت مسلم لیگ نے مستقبل کے لیے شوکت عزیز کو وزیراعظم نامزد کیا ہے اس کے بعد انہیں رکن اسمبلی منتخب کرانے کے لیے ان کی جماعت کے اراکین نے پنجاب کے ضلع اٹک سے قومی اسمبلی کے حلقہ 59 اور صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے حلقہ 229 سے مستعفی ہوکر نشستیں خالی کیں۔ دونوں نشستوں پر بدھ کو ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی بھانجی نے اٹک جبکہ سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم کے بھانجے نے تھرپارکر کی نشستین خالی کیں تھیں۔

ضمنی انتخابات کی مہم کے دوران حزب اختلاف نے حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کے الزامات عائد کیے تھے اور کہا تھا کہ پنجاب اور سندھ کے وزراء اعلیٰ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ شوکت عزیز کی مہم چلاتے رہے ہیں۔

حکومت نے ایسے الزامات یہ کہتے ہوئے مسترد کیے تھے کہ وزراء اعلیٰ پر کسی انتخابی مہم میں شرکت پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے دونوں حلقوں میں فوج تعینات کرنے کا حکم پہلے ہی دے رکھا ہے۔ جبکہ خواتین پولنگ اسٹیشن پر خاتون پولنگ ایجنٹ نہ ملنے کی صورت میں عمر رسیدہ نیک مرد کو پولنگ ایجنٹ تعینات کرنے کی سہولت بھی دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد