BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 September, 2004, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: ایم ایم اے کیا کرئے گی؟

 بلوچستان اسمبلی
بلوچستان میں مجلس عمل تذبذب میں ہے۔
بلوچستان میں گورنر اویس احمد غنی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بیس ستمبر کو طلب کیا ہے ابھی تک نہ تو اراکین اسمبلی اور نہ ہی بلوچستان اسمبلی کے افسران کو معلوم ہے کہ اس کا ایجنڈا کیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کی جانب سے اجلاس کے لیے پانچ اکتوبر کی تاریخ تجویز کی گئی تھی لیکن گورنر بلوچستان نے اچانک بیس ستمبر کو اجلاس طلب کر لیا ہے ۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی نے سنیچر کو دفتری اوقات کے بعد بتایا ہے کہ تا حال انھیں ایجنڈے کا علم نہیں ہے۔ اتوار کو دفاتر بند ہوں گے اور سوموار کو اجلاس منعقد ہوگا۔

کوئٹہ میں مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اجلاس صدر پر ویز مشرف کی وردی کے حوالے سے طلب کیا گیا ہے جس میں توقع ہے کہ یہ قرار داد پیش کی جائے گی کہ پرویز مشرف بیک وقت دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔

اگر یہ خدشات درست ہیں تو ایسی صورتحال میں مجلس عمل کے اراکین کا کیا لائحہ عمل ہوگا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد انیس ہے لیکن ایک رکن بالاچ مری کئی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے۔ ادھر مسلم لیگ کے اراکین کی تعداد اٹھائیس بنتی ہے جبکہ مجلس عمل کے اراکین کی تعداد اٹھارہ ہے۔

مجلس عمل مرکز میں وردی کی مخالفت میں پیش پیش ہے اور ان کے قائدین نے کہا ہے کہ وہ اکتیس دسمبر کے بعد صدر کے پاس دو عہدے رکھنے کی نہ صرف مخالفت تیز کریں گے بلکہ زبردست تحریک شروع کریں گے۔

اب مجلس عمل جو اس وقت بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے ان حالات میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے کافی اہمیت رکھتا ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے سنیچر کے روز بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر اور قائدین سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ انھیں اس بات پر قائل کریں کہ ایک مشترکہ قرارداد کے زریعے صوبہ سرحد کی طرح یہاں بھی وردی کی مخالف کی جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ابھی تک ان سے رابطہ قائم نہیں ہو پایا ہے۔

مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر اور سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع ان دنوں اسلام آباد میں ہیں ۔ گزشتہ روز اس حوالے سے جب ان سے ٹیلیفون پر پوچھا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے فیصلوں کے پابند ہیں لیکن چونکہ وہ مخلوط حکومت کا حصہ ہیں لہذا مخلوط حکومت میں رہنے کے بھی کچھ تقاضے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں مشاورت کی جائے گی۔

یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے تین روز قبل اس حوالے سے اسمبلی میں ایک قرار داد جمع کرائی تھی اور اگلے روز واپس بھی لے لی تھی۔

مولانا واسع نے اس قرار داد کے جمع کرانے پر سخت احتجاج کیا تھا اور بقول ان کے انھوں نے وزیر اعلیٰ سے اس بارے میں ملاقات بھی کی تھی کہ ہر کوئی جا کر قرار داد جمع کرادے گا اور مجلس عمل اس کا ساتھ دے گی ایسا نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ یہ وہی وزیر داخلہ ہیں جنھوں نے گزشتہ ہفتے کی ایک شام کو وزارت سے استعفی دے دیا تھا اور رات کو واپس لے لیا تھا۔

موجودہ صورتحال میں حزب اختلاف کی کوشش ہو گی کہ مجلس عمل ان کا ساتھ دے یا وہ مجلس عمل کا ساتھ دیں تاکہ بلوچستان اسمبلی سے بھی وردی اتارنے کا مطالبہ کیا جائے۔ اگر مجلس عمل وردی کی حمایت کرتی ہے یا اجلاس میں شرکت ہی نہیں کرتی تو اس سے صوبے میں مجلس عمل کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد