BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 March, 2005, 19:51 GMT 00:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اللہ اور مشرف نے چاہا تو ۔ ۔ ۔ ‘

ڈاکٹر ارباب غلام الرحیم
ڈاکٹر ارباب غلام الرحیم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے
پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام الرحیم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے چاہا انہیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔

یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس میں پریس کانفرنس میں کہی۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چودھری شجاعت حسین کو خط لکھ کر انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امتیاز شیخ کو پارٹی عہدے سے بھی برطرف کیا جائے۔

امتیاز شیخ حکمران مسلم لیگ کے صوبہ سندھ میں سیکریٹری جنرل جبکہ وزیراعلیٰ صدر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ان کے مطالبے پر کارروائی نہیں ہوئی تو انہیں کیا کرنا ہے وہ بعد میں بتائیں گے۔

انہوں نے بدعنوانی کے الزامات کے تحت اپنی کابینہ کے برطرف کردہ وزیر امتیاز شیخ کے بارے میں کہا کہ وہ ان کے لیے ’گینگرین، بن چکا تھا، اس لیے انہیں نکالنا ضروری ہوگیا تھا۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم کی انہیں مکمل حمایت حاصل ہے اور تاحال امتیاز شیخ کو دوبارہ وزیر بنانے کے لیے ان پر کسی نے کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ برطرف وزیر کو کبھی کابینہ میں نہیں شامل کریں گے۔

واضح رہے کہ امتیاز شیخ اور ارباب غلام الرحیم تین برس قبل خاصے قریب تھے اور اکتوبر سن دو ہزار دو میں عام انتخابات میں ’سندھ ڈیموکریٹک الائنس، کے نام سے اتحاد بنا کر ایک ہی انتخابی نشان کے تحت حصہ لیا۔ لیکن بعد میں امتیاز شیخ چودھری شجاعت حسین جبکہ ارباب سردار فاروق لغاری کے قریب ہوگئے۔

برطرفی کے بعد جہاں وزیراعلیٰ نے امتیاز شیخ پر الزامات عائد کیے ہیں وہاں ان پر بھی جوابی الزامات لگائے گئے ہیں۔

پارٹی سربراہ چودھری شجاعت حسین اور وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے انہیں بیان بازی سے روکا گیا لیکن فریقین کے درمیان الزام در الزام کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپنے وزراء کو کابینہ سے فارغ کرنے کا اعزاز صرف مسلم لیگ کو ہی حاصل رہا ہے۔ ان کے مطابق پہلے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اپنے وزراء کو فارغ کیا بعد میں وزیراعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی نے امتیاز شیخ کے بھائی مقبول شیخ اور اب انہوں نے خود کارروائی کی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی کابینہ کے دیگر وزراء پر بھی بدعنوانی کے الزامات ہیں تو وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ چھان بین کر رہے ہیں اور دوسروں کو سبق سیکھنا چاہیے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف ان سے استعفیٰ طلب کریں گے تو وہ دے دیں گے کیونکہ ان کے بغیر وہ وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتے۔ لیکن انہوں نے اپنی دعویٰ دہرایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد