BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 February, 2005, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکمران جماعت میں خلفشار

ارباب غلام الرحیم
وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام الرحیم
صوبہ سندھ میں کسی بھی سیاسی تبدیلی کے امکان کو مسترد کرنے کے بارے میں وزیراعظم شوکت عزیز کے بیان کے بعد حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والا خلفشار اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے لیکن سیاسی مبصرین کی رائے اب بھی اس کے برعکس ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات کے تحت اپنی کابینہ کے رکن امتیاز شیخ کو برطرف کیے جانے کے بعد حکمران جماعت میں سیاسی خلفشار شروع ہوا تھا۔ ارباب رحیم سندھ کے وزیراعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ صوبائی مسلم لیگ کے صدر ہیں جبکہ برطرف وزیر جنرل سیکریٹری ہیں۔

امتیاز شیخ سے قبل ان کے بھائی مقبول شیخ جب صوبہ سندھ میں وزیر خوراک تھے تو انہیں بھی ’گندم سکینڈل‘ کے بعد اسُ وقت کے وزیراعلیٰ نے بدعنوانی کے الزامات کے تحت کابینہ سے نکال دیا تھا۔

وزیراعظم شوکت عزیز نے پیر کے روز صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’صوبہ سندھ میں فوری سیاسی تبدیلی کا امکان نہیں۔‘ تاہم انہوں نے معاملے کی چھان بین کے لیے اپنی سیکریٹریٹ کے ایک افسر کو ذمہ داری سونپی ہے۔

وزیراعظم کے اس بیان سے جہاں انہیں ضمنی انتخاب میں اپنی آبائی نشست سے کامیاب کرانے والے ڈاکٹر ارباب غلام الرحیم کی بظاہر جیت اور برطرف وزیر امتیاز شیخ کی شکست لگ رہی ہے، وہاں حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کو بھی سیاسی طور پر ایک دھچکا لگا ہے۔

چودھری شجاعت حسین امتیاز شیخ کی برطرفی پر خاصے برہم تھے اور انہوں نے اس پیش رفت کا فوری نوٹس لیا تھا۔ان سے منسوب ایک بیان تمام اخبارات میں شائع ہواتھا کہ ’چودھری شجاعت حسین نے اتوار بیس فروری کو وزیراعلیٰ اور برطرف وزیر کو اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔‘

لیکن وزیراعلیٰ نے جواباً بیان دیا کہ جب وزیراعظم سعودی عرب کے دورے سے واپس آئیں گے تو وہ ان سے ملنے اسلام آباد جائیں گے۔

ایسی صورتحال کے بعد چودھری شجاعت حسین نے چند ساتھیوں کی مشاورت کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالمجید ملک، گوہر ایوب خان اور فضل آغا پر مشتمل کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔ اس کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ فریقین کا موقف معلوم کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرے۔

چودھری شجاعت حسین کی بنائی گئی اس کمیٹی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی فیصلہ واپس ہوگیا اور مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین کو کمیٹی کا کام سونپا گیا۔

ارباب غلام الرحیم کے مطابق انُ کی کوششوں کے بعد ہی یہ سب کچھ ہوا کیونکہ ان کے بقول چودھری شجاعت حسین فریق بن گئے تھے اور انہوں نے کمیٹی میں اپنی مرضی کے لوگ شامل کیے تھے۔

ان دنوں میں ہی ارباب غلام الرحیم سے منسوب یہ باتیں بھی منظرعام پر آئیں کہ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر امتیاز شیخ کو کابینہ میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے اور برطرف وزیر اور چودھری شجاعت حسین کے درمیان ’تعلقات‘ سے پردہ اٹھائیں گے۔

اب تک وہ ’خفیہ ٹیپ‘ سامنے تو نہیں آیا لیکن امتیاز شیخ کے بھائی مقبول احمد شیخ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ارباب غلام الرحیم پر خواتین کی سمگلنگ کا الزام لگادیا۔

ارباب غلام الرحیم پیر پگاڑہ کی طرح کھلے عام تو یہ نہیں کہتے کہ وہ ’جی ایچ کیو‘ کے آدمی ہیں لیکن وہ خود کو اللہ کا آدمی کہتے ہیں مگر ’جی ایچ کیو‘ سے اچھے تعلقات کی تردید بھی نہیں کرتے۔

چودھری شجاعت حسین جو حکمران مسلم لیگ کے سربراہ ہیں ان کے بارے میں عام تاثر ہے کہ ان کا حکومتی معاملات میں بھی خاصا عمل دخل ہے لیکن اس صورتحال کے بعد اس کے برعکس تاثر پیدا ہوگا۔

چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں قائم موجودہ حکمران مسلم لیگ صدر جنرل پرویز مشرف کی خواہش پر ان کے ہم خیال مسلم لیگ کے گروپوں اور دیگر جماعتوں کے انضمام کے بعد وجود میں آئی تھی۔

سندھ میں جماعتی خلفشار کے خاتمے کے حکومتی دعوے اپنی جگہ لیکن اس جماعت میں فاروق لغاری اور غلام مصطفیٰ جتوئی سے لے کر ارباب غلام الرحیم تک کئی ’غیر مسلم لیگی، سوچ والے بھی شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں تجزیہ نگاروں کے مطابق اقتدار میں رہتے ہوئے بھی مختلف خیالات والے ’نو مسلم لیگیوں‘ میں اعلیٰ عہدوں کے حصول کے لیے رسہ کشی شاید ہی ختم ہوسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد