امتیاز شیخ: تحقیقاتی کمیٹی ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کی صوبائی حکومت میں اختلافات کے حقائق جاننے کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ رات گئے چودھری شجاعت حسین نے واپس لے لیا اور اب یہ ذمہ داری سید مشاہد حسین کو سونپی گئی ہے۔ مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین آج کراچی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام الرحیم، امتیاز شیخ اور سرکردہ مسلم لیگ رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے صورتحال معلوم کریں گے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ میں وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم نے چند روز قبل بدعنوانی کے الزامات لگا کر اپنی کابینہ کے وزیر امتیاز شیخ کو برطرف کردیا تھا۔ جس کے بعد صوبائی حکومت میں اختلافات پیدا ہوگئے۔ سنیچر کے روز چودھری شجاعت حسین کی صدارت میں ہونے والے ایک غیر رسمی اجلاس میں مشاورت کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مجید ملک کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔کمیٹی میں بلوچستان کے سابق گورنر فضل آغا اور سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ لیکن کمیٹی کے قیام کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد اچانک رات گئے چودھری شجاعت حسین نے فیصلہ واپس لے لیا اور سید مشاہد حسین کو ذمہ داری سونپ دی۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ انہوں نے خود فیصلہ واپس لیا یا ان سے واپس کروایا گیا۔ سنیچر کو اجلاس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام الرحیم اور برطرف وزیر امتیاز احمد شیخ کو ہدایت کی تھی کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ آنے تک ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کریں۔ پارٹی سربراہ کی ہدایت کی پرواہ کیے بغیر جہاں وزیراعلیٰ نے مسلم لیگ کا اجلاس بلا کر برطرف وزیر کے بھائی مقبول شیخ پر لاڑکانہ اور شکارپور سے حالیہ اغوا کی وارداتوں میں پس پردہ ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ برطرف وزیر امتیاز شیخ نے بھی کراچی میں ایک اخباری کانفرنس میں وزیراعلیٰ کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے متعلقہ وزیر کی بدعنوانی کی تفصیلات پر مبنی فائل صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کو پیش کی تھی اور انہیں اعتماد میں لینے کے بعد انہوں نے جناب شیخ کو برطرف کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||