سندھ: بلڈ بینکوں کے خلاف کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں حکام نے بدھ کو صوبے میں قائم ایک سو سے زائد بلڈ بینکوں کو فوری طور پر بند کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے 31 دسمبر تک یہ بلڈ بینک بند نہ کیے تو ان بلڈ بینکوں یکم جنوری سے سیل کر دیا جائے گا اور ان کے مالکان کوگرفتار کر کے ان پر مقدمات چلائے جائیں گے۔ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی سربراہ ڈاکٹر فرحانہ میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے کے بیشتر پرائیوٹ بلڈ بینکوں میں زائدالمیعاد اور غیر محفوظ خون بیچا جا رہا ہے جس سے مریضوں میں ایڈز اور ہیپیٹائٹس جیسے مہلک امراض پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بلڈ بینکوں کے عملے کی کوئی میڈیکل ٹریننگ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ شہریوں کو محفوظ خون فراہم کیا جائے۔ ڈاکٹر فرحانہ نے بتایا کہ ان سو سے زائد بلڈ بینکوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مزید ڈھائی سو بلڈ بینکوں کو بھی بند کیا جائے گا جنہوں نے سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی اجازت کے بغیر محلوں میں بلڈ بینک قائم کئے ہیں۔ اس سلسلے میں سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن آف سیف بلڈ ایکٹ 1997 میں ترمیم بھی کی گئی ہے جس میں غیر معیاری خون بیچنے والے بلڈ بینکوں کے مالکان کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانےکی سزا تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جرم ناقابل ضمانت قرار دے دیا گیا ہے۔ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے اکتوبر میں کراچی میں قائم چند بلڈ بینکوں پر چھاپے مارے تھے اور سات بلڈ بینکوں کو سیل کر دیا تھا۔ ڈاکٹر فرحانہ کا کہنا ہے کہ اندرون سندھ بلڈ بینکوں کی صورتحال سب سے خراب ہے اور کراچی کے علاوہ تمام اضلاع میں 103 بلڈ بینکوں میں سے صرف 13 بلڈ بینکوں کو محفوظ قرار دے کر ان کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔ سندھ کے تین اضلاع نواب شاہ، شکارپور اور گھوٹکی کے تمام پرائیوٹ بینکوں کو غیر محفوظ قرار دے کر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اس سوال پر کہ ان بلڈ بینکوں کو بند کرنے سے شہریوں کو خون کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ آنے کا اندیشہ ہے، ڈاکٹر فرحانہ نےاس بات کا جواب نفی میں دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی خصوصی ٹریننگ کی گئی ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ خون کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے ایک اشتہار کے ذریعے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خون کی بوتل خریدتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ صرف ان بلڈ بینکوں سے خون خریدیں جن کو اتھارٹی کی طرف سے رجسٹر کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||