BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 December, 2004, 11:16 GMT 16:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: بلڈ بینکوں کے خلاف کارروائی

News image
سندھ میں حکام نے بدھ کو صوبے میں قائم ایک سو سے زائد بلڈ بینکوں کو فوری طور پر بند کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے 31 دسمبر تک یہ بلڈ بینک بند نہ کیے تو ان بلڈ بینکوں یکم جنوری سے سیل کر دیا جائے گا اور ان کے مالکان کوگرفتار کر کے ان پر مقدمات چلائے جائیں گے۔

سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی سربراہ ڈاکٹر فرحانہ میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے کے بیشتر پرائیوٹ بلڈ بینکوں میں زائدالمیعاد اور غیر محفوظ خون بیچا جا رہا ہے جس سے مریضوں میں ایڈز اور ہیپیٹائٹس جیسے مہلک امراض پھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان بلڈ بینکوں کے عملے کی کوئی میڈیکل ٹریننگ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ شہریوں کو محفوظ خون فراہم کیا جائے۔

ڈاکٹر فرحانہ نے بتایا کہ ان سو سے زائد بلڈ بینکوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مزید ڈھائی سو بلڈ بینکوں کو بھی بند کیا جائے گا جنہوں نے سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی اجازت کے بغیر محلوں میں بلڈ بینک قائم کئے ہیں۔

اس سلسلے میں سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن آف سیف بلڈ ایکٹ 1997 میں ترمیم بھی کی گئی ہے جس میں غیر معیاری خون بیچنے والے بلڈ بینکوں کے مالکان کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانےکی سزا تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جرم ناقابل ضمانت قرار دے دیا گیا ہے۔

سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے اکتوبر میں کراچی میں قائم چند بلڈ بینکوں پر چھاپے مارے تھے اور سات بلڈ بینکوں کو سیل کر دیا تھا۔

ڈاکٹر فرحانہ کا کہنا ہے کہ اندرون سندھ بلڈ بینکوں کی صورتحال سب سے خراب ہے اور کراچی کے علاوہ تمام اضلاع میں 103 بلڈ بینکوں میں سے صرف 13 بلڈ بینکوں کو محفوظ قرار دے کر ان کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔

سندھ کے تین اضلاع نواب شاہ، شکارپور اور گھوٹکی کے تمام پرائیوٹ بینکوں کو غیر محفوظ قرار دے کر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اس سوال پر کہ ان بلڈ بینکوں کو بند کرنے سے شہریوں کو خون کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ آنے کا اندیشہ ہے، ڈاکٹر فرحانہ نےاس بات کا جواب نفی میں دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی خصوصی ٹریننگ کی گئی ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ خون کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے ایک اشتہار کے ذریعے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خون کی بوتل خریدتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ صرف ان بلڈ بینکوں سے خون خریدیں جن کو اتھارٹی کی طرف سے رجسٹر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد