’بچوں کے خون میں کیمیائی مادہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے بچوں کے خون میں خطرناک کیمیائی مادوں کی موجودگی کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر( ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور کو آپریٹو بینک نے سات برطانوی خاندانوں کے خون کے ٹیسٹ کے بعد معلوم کیا کہ ان خاندانوں کے بچے اپنے بزرگوں کے مقابلے میں آلودگی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کہا کہ بچوں کو بچانے کے لیے ’آرگینوکلورین‘ قسم کی کھادوں کو مرحلہ وار ختم کر دیا جانا چاہیے۔ لیکن کچھ سائنسدانوں کا کہنا کہ خون میں کیمیائی مادے کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے ایک سو چار مختلف قسم کے کیمیائی مادوں کی خون میں ممکنہ موجودگی کے بارے میں جاننے کے لیے نو سال سے لے کر اٹھاسی سال تک کے تینتیس افراد کے خون کا تجزیہ کیا۔ بلڈ ٹیسٹ سے معلوم ہوا کے ان ایک سو چار میں سے پچھتر کیمیائی مادے بچوں کے خون میں، پچھتر ہی ان کے والدین کے خون میں جبکہ ان کے دادا دادی کے خون میں چھپن مادوں کے آثار ملے۔ تجربوں میں حصہ لینے والے بیاسی فیصد افراد کے خون میں کم سے کم ایک ’پرفلورینیٹڈ‘ کیمیکل ضرور موجود تھا۔ کچھ بچوں کے خون میں ایسے کیمیائی مادے کے عناصر ملے جو روز مرہ کام آنے والی اشیا مثلاً ٹی وی، فرنیچر میں استعمال ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں کیمیائی مادوں کے بارے میں مجوزہ قانون جسے ’ریچ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے خطرناک مادوں کے کنٹرول کے لیے ایک اچھا موقع ہے جو بار بار نہیں ملتا۔ لیکن لیسٹر میں میڈیکل ریسرچ کونسل انسٹیٹیوٹ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’زمین کیمیائی مادوں سے بنی اور ان میں سے بہت سے خطرناک مادے قدرتی طور پر ماحول میں پائے جاتے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||