چھانگا مانگا کو بچانے کا منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جن چار منصوبوں کو اس سال پائیدار توانائی کے لئے ایشڈن ایوارڈز سے نوازہ گیا ان میں ایک ایسکورٹ فاؤنڈیشن کی زیر نگرانی چھانگا مانگا کے دیہات میں چلنے والا چولہا پراجیکٹ بھی شامل ہے۔ بھارت میں ایجاد ہونے والا ’ناڈا چولہا‘ پاکستان میں واقع چھانگا مانگا کے جنگلات اوروہاں کی خواتین کی صحت کو بچانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے ۔ ایک سوشل ورکر ذکیہ تبسم کہتی ہیں کہ ’چھانگا مانگا کے چون دیہات کے اسی فی صد گھرانے یہی چولہا استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث ایک طرف وہاں ایندھن کے لیے لکڑیوں کی کھپت نصف ہوگئی ہے تودوسری طرف گھریلو عورتیں دھوئیں کے روزانہ حملہ سے بچ گئی ہیں۔ یہ چولہاایک بھارتی سماجی کارکن مدھو سارین نے ایجاد کیا تھااور بھارت کے صوبہ ہریانہ کے گاؤں ناڈا میں پہلی بار متعارف کروایا گیا اس لیے اس کا نام ہی ’ناڈا چولہا‘ رکھ دیا گیا تھا۔ انیس سو پچاسی میں این جی او کی کارکن خواتین کے ذریعے یہ سادہ ٹیکنالوجی پاکستان پہنچی اور چند دیہات میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔
اس کی دو بنیادی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں سے دھواں کم نکلتا ہے اور توانائی کے یونٹ روایتی چولہے کے مقابلے میں نصف سے بھی کم استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ چولہا ماحولیاتی آلودگی کی شرح میں کمی کے ساتھ ساتھ ایندھن کے لیے درختوں کی کٹائی میں بھی کمی کا سبب بن رہا ہے۔ چھانگا مانگا اور اس کے گرد ونواح میں کم دھوئیں والے کفایتی چولہے کو متعارف کرانے کا سہرا پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم ایسکورٹس فاؤنڈیشن کے سر ہے۔ لاہور کے جنوب میں کوئی پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چھانگا مانگا کے ایک قصبہ کوٹ حسن محمد میں تمام گھروں میں کم دھواں دینے والا یہ کفایتی چولہا لگا ہے۔ میں کوٹ حسن محمد پہنچا تو ہرگاؤں کی خاتون خانہ نے شام کے کھانے کے لیے چولہا پر ہانڈی چڑھائی ہوئی تھی۔ دو بچوں کی ماں بلقیس کی گھریلو ذمہ داریوں میں ساس سسر سمیت گھر کے آٹھ افراد کے لیے دو وقت کا کھانا تیار کرنا بھی ہے۔وہ آٹھ سال سے کفائتی چولہا استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس چولہے سے انہیں بے حد فائدہ ہوا اب وہ جلدی سے کھانا تیار کر لیتی ہیں اور آنکھوں میں بھی دھواں نہیں لگتا۔ ایسکورٹس فاؤنڈیشن کی ذکیہ تبسم کہتی ہیں کہ روایتی چولہے سے نکلنے والا دھواں خواتین کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روایتی چولہے پر تین وقت کھانا پکانے والی ایک عورت اوسطاً ہر روز چارسو سگریٹوں کے برابر دھواں اپنے اندر لے جاتی ہے جس سے ان میں جوڑوں کادرد، سانس کی تکلیف ،نسوانی بیماری لیکیوریا ، بانجھپن، اور آنکھوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جبکہ اس نئے چولہے کا دھواں کی چمنی کے ذریعے اوپر نکال دیا جاتا ہے جس سے خاتون دھوئیں کے حملہ سے محفوظ اور صحت مند رہتی ہے۔ ایسکورٹس فاؤنڈیشن ء انیس سو پچانوے سے اسی چولہے کے فروغ میں مصروف ہے وہ گاؤں گاؤں چولہا مکینک خواتین پیدا کر رہی ہیں اور دیگر این جی اوز کے کارکنوں کو بھی تربیت دے رہی ہیں۔ یہ چولہا چکنی مٹی سے بنتا ہےاور اس کے لیے صرف ٹین کی ایک چمنی اور لوہے کی ایک جالی درکار ہوتی ہے۔ فاؤنڈیشن کی فیلڈ افسر زیب النساء کہتی ہیں کہ یہ جالی اور چمنی ویسے تین سوروپے میں بن جاتی ہے لیکن اگر کسی کے پاس یہ رقم بھی نہ ہو تو صرف مٹی کا چولہا اور ٹین کی چمنی ہی کافی ہےاس صورت میں یہ چولہا بالکل مفت ہی بن جاتا ہے۔ مٹی کا سیدھا سادھا چولہا بنانا خاصا آسان ہے اسے دیہاتی عورت آسانی سے بنا لیتی ہے لیکن مطلوبہ نتائج کے لیے اسکا حجم اور اس کی چمنی ایک خاص سائز کی رکھنی ضروری ہوتی ہے اس کے لیے ایسکورٹس فاؤنڈیشن کی ورکرز گاؤں گاؤں جاکر دیہاتی خواتین کوچولہا بنانے کی تربیت دیتی ہے۔ ہر ورکشاپ کے نتیجہ میں ایک دو ایسی عورتیں ضرور مل جاتی ہیں جو چولہا بنانا سیکھ جاتی ہیں انہیں چولہا مکینک کا خطاب بھی مل جاتا ہے۔ چولہا مکینک عورت اپنے طور پر گاؤں میں قلیل معاوضہ پر چولہے بنا بنا کر دیتی ہے۔ ایک ادھیڑ عمر چولہا مکینک خاتون مقصوداں درجنوں چولہے بنا چکی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’معاوضہ کیا ملنا ہوتا ہے جس نے جو دیا وہ ہی کافی ہوتا ہے ‘۔ زیب النسا کہتی ہیں کہ چولہا بنانا آسان اور سستا ہے اور اس کے فوائد بہت ہیں اس لیے یہ علاقہ میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے ۔ اس بنیاد پر غیر سرکاری تنظیم کی اس کاوش کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے اور لندن میں ہونے والے بین الاقوامی ایشڈل ایوارڈ کے لیے اسے انعام سے نوازہ گیا۔ اس ایوارڈ کے لیے دو سو تنظیموں نے شرکت کی تھی تاہم ان میں سے صرف چار کو مقابلے کے لیے منتخب کیا گیا اور سکارٹس فاؤنڈیشن ان چار میں سے ایک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||