ہم نے گاؤں میں بجلی بنائی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں پائیدار توانائی کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کے لئے قائم کئے گئے چودہ ایشڈن ایوارڈ کا اعلان اس سال چوبیس جون کو لندن میں کیا جا رہا ہے۔ اس سال اس ایوارڈ کے لئے شارٹ لسٹ کئے جانے والے سات منصوبوں میں سے دو پاکستان سے ہیں۔ البتہ ایک لاکھ چالیس ہزار برطانوی پاؤنڈز کا انعام ان میں سے چار کامیاب ترین منصوبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ پاکستان سے منتخب کئے جانے والے دو منصوبوں میں سے ایک صوبہ سرحد کے دور افتادہ پہاڑی ضلع چترال میں مقامی سطح پر اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیا گیا بجلی گھر ہے جبکہ دوسرا لاہور کے قریب چھانگا مانگا جنگل کے بچاؤ کی کوشش کا منصوبہ ہے۔ ضلع چترال میں سلسلہ ہندوکش کے اونچے نیچے پہاڑوں کے درمیان ٹھاٹھے مارتا دریائے چترال اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ اپنے لئے راستہ بناتا ہے۔ اسی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی لوگوں نے انیس سو اکانوے میں اپنی مدد آپ کے تحت پہلا بجلی گھر نصب کیا اور اپنی تاریکی کو روشنی میں بدل دیا۔ یہ سلسلہ اتنا مفید اور مالی طور پر کامیاب ثابت ہوا کہ تیرہ برس کے عرصے میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نامی غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے اس ضلع میں اب دو سو سے زائد ایسے بجلی گھر کام کر رہے ہیں۔
انہی چھوٹے چھوٹے بجلی گھروں میں سے ایک چترال سے پینتالیس کلومیٹر دور گرم چشمہ کے ایک گاؤں ایژ میں بھی قائم ہے۔ پچاس کلو واٹ کا یہ بجلی گھر پانچ سال سے تقریباً تین سو گھروں روشن کیے ہوئے ہے۔ یہاں کا بجلی گھر بغیر کسی بڑی دقت کے چلانے والے ولی خان نے بتایا کہ اسے آج تک کوئی بڑی دقت پیش نہیں آئی۔ اسے چترال میں بجلی گھر چلانے کی صرف پچیس دن کی تربیت ملی تھی جوکہ اس کے بقول کافی تھی۔ لیکن جب بجلی نہیں تھی تو یہ لوگ کیسے زندگی بیتاتے تھے اس بارے میں اس گاؤں کے ایک بزرگ میر ہزار نے کہا کہ ان کے بڑے بوڑھے ایک خاص قسم کی دیودار لکڑی جلایا کرتے تھے۔ اس وقت مٹی کا تیل بھی دستیاب نہیں تھا۔ ’گاؤں میں مصروفیات شام پڑتے ہی ختم ہو جایا کرتی تھیں۔ لوگ کھانا کھا کر سو جایا کرتے تھے کیونکہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔‘ حکومت نے بجلی یہاں ستر کی دہائی میں پہنچائی، لوگوں کو اس کا عادی کیا لیکن بعد میں کئی کئی روز بلکہ ہفتوں تک غائب رہنے لگی۔ امیر ہزار کا کہنا تھا کہ ڈیزل سے چلنے والا یہ جنریٹر ماحول کی آلودگی کے علاوہ جب خراب ہوجاتا تو پھر لمبے عرصے تک خراب رہتا۔ ’کوئی پرزہ مرمت کے لئے چترال بازار میں کئی کئی ہفتوں تک بجٹ آنے کے انتظار میں پڑا رہتا تھا۔‘ اس سے تنگ آ کر مقامی آبادی نے اے کے آر ایس پی کی مدد سے اپنا بجلی گھر انیس سو اٹھانوے میں نصب کیا۔ کچھ رقم اور تمام مزدوری مقامی لوگوں نے فراہم کی اور کچھ رقم اور تکنیکی مہارت اے کے آر ایس پی نے فراہم کی۔ گاؤں کے افراد کی ایک منتخب کمیٹی اس بجلی گھر کو چلاتی اور صارفین سے بل اکھٹا کرتی ہے۔ یہ لوگ بغیر تنخواہ ایک سال کی مدت کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کا احتساب کڑا ہوتا ہے۔ یہ نظام کتنا موثر ہے اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ یہ بجلی سرکاری دفاتر کو بھی مہیا کی جاتی ہے اور اس کے نرخ میں اضافہ گزشتہ چھ برسوں میں نہیں کیا گیا۔
ایژ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بجلی کا انہیں بے انتہا فائدہ ہوا ہے۔ ایک نوجوان حنیف اللہ سے نوجوانوں کو اس سے ملنے والے فائدے کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے کہا کہ وہ اب راتوں کو بھی پڑھ لکھ سکتے ہیں۔ کمپوٹر کے ساتھ ساتھ انہیں تفریح بھی ٹی وی کی شکل میں مہیا ہونے لگی۔ بعض دیہات میں تو بجلی بعد میں اور ٹی وی لوگوں نے شوق میں پہلے خرید لئے تھے۔ حنیف کا کہنا تھا کہ وہ اور بڑے لوگ ٹی وی میں معلوماتی پروگرام دیکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ البتہ جس کمرے میں مجھے بیٹھایا گیا تھا وہاں ٹی وی اور وی سی آر کے علاوہ بھارتی اور پاکستانی فلموں کی کیسٹس بھی پڑی تھیں۔ اگرچہ فی الحال یہاں اتنی بجلی پیدا نہیں ہوتی کہ اسے کھانا پکانے کے استعمال میں لایا جا سکے تاہم یہاں کی کئی خواتین اس سے معاشی فائدہ بھی اٹھا رہی ہیں۔ ایژ کی پچہتر سالہ گل موف کا کہنا تھا کہ وہ اب راتوں کو بیٹھ کر مشہور چترالی پٹی کا دھاگا تیار کر سکتی ہیں جس سے ان کی آمدن دوگنی ہوگئی ہے۔ ’بجلی کا تو ہمیں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ہماری لڑکیاں اب پڑھ سکتی ہیں، گھر کی صفائی آسان ہوگئی ہے اور سب سے بڑھ کر لسی بنانے میں جو پہلے کئی گھنٹے لگتے تھے اب چند منٹوں میں تیار ہوجاتی ہے۔‘ ان فوائد کے علاوہ بجلی کے آنے سے اس علاقے کے ماحول یعنی جنگلات پر انحصار کم ہوا ہے، ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئی ہے، بچّھو کے کاٹے کے واقعات کم ہوئے ہیں اور کمپوٹر جیسی جدید ٹیکنالوجی بھی یہاں آپہنچی ہے۔ اب ان علاقوں کے لوگ ان بجلی گھروں کی پیداواری طاقت بڑھانے کے اگلے مرحلے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ میر ہزار کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں بات چیت کر رہے ہیں انہوں نے کچھ بچت بھی کی ہے اور وہ اب بجلی کی دوگنی پیداوار کے لئے مشنری خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’ہم سے لوگ بجلی کا کنکشن مانگتے ہیں لیکن ہم دے نہیں سکتے۔‘ اس منصوبے کی روح رواں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے معراج خان اس کی کامیابی کی وجہ ان لوگوں کے اتحاد اور انتظام کو قرار دیتے ہیں۔ معراج خان کا کہنا تھا کہ اس ایوارڈ کے حق دار یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی محنت، انتظام اور اتحاد کے ساتھ یہ ثابت کر دیا کہ وہ کوئی بھی کام خود کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انعام جیتنے کی صورت میں وہ اس سے ملنے والی رقم سے وہ کسی دور افتادہ علاقے میں ایک اور بجلی گھر نصب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب علاقے میں وہ وقت آگیا ہے جب یہ بجلی گھر زیادہ طاقت کے بنائے جائیں تاکہ یہاں کے لوگ اسے کھانا پکانے، پانی گرم کرنے اور دیگر کاموں کے لئے استعمال کر سکیں۔ یہ کامیاب منصوبے اس بات کی دلیل ہیں کہ مناسب آگہی اور امداد ملنے سے یہ لوگ کیا کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن ابھی ان علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لئے مزید کوشش کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||