عالمی حدت میں خطرناک اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے دس سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کلائمیٹ چینج یا آب و ہوا میں تبدیلی کو روکنے یا اس کی رفتار کو کم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر گرمی میں اضافہ کے جو اندازے لگائے گئے ہیں وہ غلط ہو سکتے ہیں اور عالمی حدت میں اضافہ بہت جلد ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں کی اس ٹیم نے صاف ایندھن کے استمعال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کی پیداوار میں فوری کمی کرنا ضروری ہے۔ سائنس میگزین کے ایڈیٹر ان چیف کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت ایک ایسے تجربہ سے گزر رہی ہے جو اس کے قابو میں نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام یواین ای پی کے سائنسدانوں نے خبردار کیا تھا کہ بیسویں صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں عشاریہ چھ ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوگا جو آنے والی دہائیوں میں بڑھتا چلا جائے گا۔ سائسندانوں نے اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ کلائمیٹ چینج کے نظریہ کو پوری طرح سے ثابت کرنے کے لئے مطلوبہ شواہد نہیں ہیں تاہم اس بات کو بہانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ صدر بش نے کیوٹو پروٹوکول سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ یہ پروکول ان گیسوں کی پیداوار کم کرنے پر زور دیتا ہے جن کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، مثلاً کاربن ڈائی آکسائڈ گیس۔ وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے امریکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||