BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلڈ بینکوں کے خلاف مقدمات

خون کی بوتلیں
کراچی میں دو ہفتے قبل سیل کئے جانے والے بلڈ بینکوں کے خلاف ایکسپائرڈ یعنی زائدالمیعاد خون اور سکریننگ کٹس فروخت کرنے پر پولیس میں کیس درج کرایا جائے گا۔

سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی سرہراہ فرحانہ میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات کا فیصلہ پیر کی رات ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی اور صوبے کے دیگر شہروں میں 450 بلڈ بینک قائم ہیں جن میں سے بیشتر ایکسپائرڈ خون اور سکریننگ کٹس فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں کارروائی کی جائے۔

سندھ بلڈ ٹرانسفوژن ایکٹ 1998 کے تحت ایکسپائرڈ خون بیچنے پر دو سال قید اور دس لاکھ جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیل ہونے والے بلڈ بینکوں کے علاوہ صوبے میں 49 مزید بلڈبینکوں کو بند کرنے کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ سیل ہونے والے بلڈ بینکوں میں ہلال احمر بلڈ بینک کلفٹن، شاہ بلڈ بینک جناح ہسپتال، الحبیب بلڈ بینک سول ہسپتال، کراچی انڈوانس لیب اینڈ بلڈ بینک، کراچی نیشنل لیبارٹری اور کراچی ڈائیگونسٹک لیب اینڈ بلڈ بینک شامل ہیں۔

اجلاس میں صوبائی سطح پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو بلڈ بینکوں میں بیچی جانے والی خون کی بوتلوں کی قیمت از سر نو متعین کرے گی تاکہ بلڈ بینک ایک منافع بخش کاروبار نہ رہے اور لوگ پیسے کی لالچ میں مریضوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔

اس وقت صرف کراچی میں ڈیڑھ سو سے زائد بلڈ بینک کام کر رہے ہیں جن میں سے صرف نو رجسٹرڈ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد