کراچی: سات بلڈ بینکوں پر چھاپے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں حکام نےچھاپے مار کر سات معروف بلڈ بینکوں کو سیل کر دیا ہے اور بھاری مقدار میں ایکسپائرڈ یعنی زائدالمیعاد خون کی بوتلیں اور سکریننگ کِٹس برآمد کی ہیں۔ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی سربراہ ڈاکٹر فرزانہ میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی ماہ سے شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ شہر کے زیادہ تر بلڈ بینک ایکسپائرڈ خون کی بوتلیں اور سکریننگ کِٹس فروخت کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی ایک ٹیم نے ان ساتوں بلڈ بینکوں پر چھاپہ مارا۔ چھاپہ مار ٹیم کے مطابق ان بلڈ بینکوں میں نا تو کوئی پیتھالوجسٹ موجود تھا اور نہ ہی کوئی تربیت یافتہ عملہ۔ ان ساتوں بلڈ بینکوں سے سینکڑوں خون کی بوتلوں اور کِٹس کو گاڑیوں میں بھر کر ایس ٹی بی اے کے دفتر لایا گیا اور ان بلڈ بینکوں کو تالا لگا دیا گیا ہے۔ سیل ہونے والے بلڈ بینکوں میں ہلال احمر بلڈ بینک کلفٹن، شاہ بلڈ بینک جناح ہسپتال، الحبیب بلڈ بینک سول ہسپتال، کراچی انڈوانس لیب اینڈ بلڈ بینکۂ کراچی نیشنل لیبارٹری اور کراچی ڈاییگونسٹک لیب اینڈ بلڈ بینک شامل ہے۔ ڈاکٹر فرزانہ کا کہنا ہے کہ شہر کے بیشتر بلڈ بینک ایکسپائرڈ بلڈ فروخت کررہے ہیں۔ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے شہر کے تمام بلڈ بینکوں کو رجسٹریشن کے لئے نوٹس جاری کر دیے ہیں اور رجسٹریشن سے پہلے ان بلڈ بینکوں کا معائنہ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||