BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2004, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کےغیر محفوظ بلڈ بینک

خون کی بوتلیں
محفوظ منتقلیِ خون انتہائی ضروری ہے
ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کو ضرورت پڑنے پر خون فراہم کرنے والے بلڈ بینکوں میں غیر محفوظ اور جراثیم زدہ خون موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسے خطرناک امراض بڑھتے جا رہے ہیں۔

کراچی میں ’بلڈ بینکنگ‘ پر منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی سمپوزیم میں بتایا گیا کہ ملک بھر کے خون فراہم کرنے والے اداروں میں صرف ایک فیصد بلڈ بینک ایسے ہیں جہاں خون کو سٹور کرنے کی مناسب سہولیات موجود ہیں۔

اس طرح بہت کم بلڈ بینک خون میں موجود خطرناک بیماریوں کا سراغ لگانے کے ساز و سامان سے لیس ہیں۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹر سید عبدالمجیب کے مطابق پاکستان میں ہر سال خون کی پندرہ لاکھ بوتلوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں سات سے دس ہزار بوتلیں غیر محفوظ ہوتی ہیں کیونکہ ان میں ہیپاٹائٹس او ایچ آئی وی ایڈز کے انفیکشن والا خون ہوتا ہے۔

خون کی بوتل
محفوظ منتقلیِ خون سے متعلق قانون کی ضرورت ہے

امریکی بورڈ آف پیتھالوجسٹس کے ڈاکٹر جمیمز پرکنز کا خیال تھا کہ پاکستان میں خون کی قلت پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ خون کے اجزاء کی تیاری کا کام تیزکیا جائے۔ جس مریض کو صرف سرخ خلیوں کی ضرورت ہو، اسے مکمل خون دینا غیرضروری اقدام ہے۔ خون کے اجزاء اگر الگ کر لئے جائیں تو ایک بوتل خون سے تین یا چار مریضوں کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محفوظ خون کی فراہمی، موت کی دہلیز پر کھڑے مریضوں کے لئے زندگی کی نوید ہوتی ہے۔ اس سے بالخصوص کینسر کے مریضوں او لوکیمیا کے شکار بچوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے امید ظاہر کی کہ سندھ اسمبلی نے حال ہی میں محفوظ منتقلیِ خون کا جو قانون منظور کیا ہےاس سے غیر منظور شدہ بلڈ بینکوں کے ساتھ ساتھ خطرناک امراض پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔

انیس سو ستر کے عشرے تک خون فراہم کرنے کا کاروبار پیشہ ور لوگوں کے ہاتھ میں تھا جو اپنا خون فروخت کیا کرتے تھے۔ انیس سو چھہتر میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے چند طلباء نے پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی تاکہ عام لوگوں کو خون کا عطیہ دینے پر مائل کیا جا سکے اور مریضوں کو بیماریوں سے محفوظ خون فراہم کیا جا سکے۔

شکاگو یونیورسٹی بلڈ بینک کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر پروفیسر ایم اے پوتھیا والا نے محفوظ منتقلیِ خون کے سلسلے میں قوانین اور معیار مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایک بڑے بلڈ بینک کو خون کی سکریننگ کے تمام جدید آلات سے لیس کرنے پر دس لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد