BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2003, 07:54 GMT 12:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دل کھول کر امداد دیں: کوفی عنان
اینجینیئر
امریکہ کو عراق کی تعمیر نو کے لئے تیس بلین ڈالر چاہئیں

عراق کی امریکی انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید ہے کہ عراق کے لیے مہیا کی جانے والی چار ارب ڈالر کی رقم صحیح طور پر استعمال نہیں ہوئی ہے اور اس میں خردبرد ہوئی ہے۔

امداد مہیا کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے ’ کرسچن ایڈ‘ نے کہا تھا کے عراق کی عبوری انتظامیہ تیل اور دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی چار ارب ڈالر کی آمدنی کا حساب دینے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق کی عبوری انتظامیہ کے حسابات میں گڑبڑ کی وجہ سے عراق کے لوگوں میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔

تاہم عراق کی عبوری انتظامیہ کے ایک ترجمان نے کرسچن ایڈ کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کرسچن ایڈ کی طرف سے مہیا کئے جانے والے اعداد و شمار درست نہیں اور عراق کا پورا بجٹ انٹر نیٹ پر موجود ہے جس کی آّزادانہ طور پر جانچ پڑتال ہو سکتی ہے۔

دریں اثناء سپین کے شہر میڈرڈ میں عراق کی تعمیر نو کے سلسلے میں جمعرات کو ایک بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوا ہے۔ اس کانفرنس میں اقوام متحدہ اور عراقی سیاست دان امیر ممالک اور امداد دینے والے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ عراق کے لیے زیادہ سے زیادہ امداد مہیا کریں۔

اقوام متحدہ، عالمی بینک اور عراق کی امریکی انتظامیہ نے تخمینہ لگایا ہے کہ عراق کی تعمیر نو کے لیے چھپن ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

امریکہ نے پہلے ہی اس سلسلے میں بیس ارب ڈالر مہیا کر دیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ یہ وقت امداد دینے اور دل کھول کر دینے کا ہے۔

کوفی عنان نے کہا ’ ہم سب عراق کی خودمختاری بحال کرنے کے حق میں ہیں اور عراق کی تعمیر نو کے کام کے آغاز اس وقت تک روکا نہیں جا سکتا۔‘

امریکہ اس کانفرنس کے اہم حامیوں میں سے ہے اور وہ عراق کی تعمیر نو کے لئے تیس ارب ڈالر کی امداد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم خدشہ ہے کہ اس سے کہیں کم رقم کا وعدہ کیا جائے گا۔

عراق پر جنگ کی مخالفت کرنے والے ممالک فرانس، جرمنی اور روس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ مزید امداد کا وعدہ نہیں کریں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لیئن کا کہنا ہے کہ کچھ ہفتے پہلے تک یوں معلوم ہو رہا تھا کہ اس کانفرنس میں عالمی برادری کی طرف سے بہت کم رقم کی پیشکش کی وجہ سے امریکہ کو شرمندگی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم پچھلے ماہ میں امریکہ نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے اور خود اس نے بیس ارب ڈالر امداد کا وعدہ کیا ہے۔

مندرجہ ذیل ممالک اور ادارے امداد کا وعدہ کر چکے ہیں:

۔ورلڈ بینک: تین سے پانچ ارب ڈالر

۔جاپان: دیڑھ ارب ڈالر

۔ برطانیہ: ساڑھے تراسی لاکھ ڈالر

۔ سپین تیس: لاکھ ڈالر

۔یورپی یونین: تئیس لاکھ ڈالر

کانفرنس کے منتظمین کو توقع ہے کہ خلیج کے ممالک بھی کچھ امداد کا اعلان کریں گے۔

یہ بھی طے کرنا باقی ہے کہ عراق کے بین الاقوامی قرضوں کا کیا کرنا چاہیے۔ایک اندازے کے مطابق عراق کے بین الاقوامی قرضوں کی تعداد ڈیڑھ ارب ڈالر ہے۔ ان قرضوں کو معاف کرنے پر نہ کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ۔

میڈرِڈ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنگ مخالف تنظیموں نے کانفرنس کے موقع پر احتجاجی مظاپرے کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد