BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2003, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پر قرارداد متفقہ طور پر منظور
سلامتی کونسل
قرار داد منظور ہونے کے لئے سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے نو ارکان کا ووٹ درکار تھا۔

سلامتی کونسل کے اراکین نے متفقہ طور پر عراق کے مستقبل سے متعلق اقوامِ متحدہ کی ترمیم شدہ قرار داد کو منظور کرلیا ہے۔ قرارداد کا یہ نیا مسودہ امریکہ نے پیش کیا تھا۔

قرار داد منظور ہونے کے لئے سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے نو ارکان کا ووٹ درکار تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری تھا کہ اسے کوئی ویٹو نہ کرے۔ تاہم سلامتی کونسل نے اس نئے مسودے کو بلا مخالفت منظور کیا۔

نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار گریگ بیرو کے مطابق اس قرارداد کو بہت سے حلقے امریکی سفارتکاری کی فتح تصور کر رہے ہیں۔

عراق پر امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے تین بڑے مخالفین فرانس، جرمنی اور روس نے رائے دہی سے کچھ دیر قبل اس قرار داد کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا جس سے یہ خدشات دور ہو گئے تھے کہ ممالک اس قرارداد پر ااپنی رائے محفوظ رکھیں گے۔

تاہم یہ ممالک عراق کی تعمیرِ نو کے لئے اپنی فوج یا فنڈز فراہم نہیں کریں گے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فی الحال عراق میں اختیارات اتحادی افواج کے پاس رہیں گے اور حکومت کا اختیار اس وقت عراقیوں کے حوالے کیا جائے گا جب ایسا کرنا عملی طور پر ممکن ہوگا۔

جرمنی کے چانسلر گرہارڈ شروڈر کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد صحیح سمت میں ایک قدم ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں عراق کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ قرار داد ناکافی ہے۔

قرارداد پر رائے دہی بدھ کے روز ہونا تھی تاہم روس کے اصرار پر کہ وہ اپنے حامیوں سے مذاکرات چاہتا ہے، یہ رائے دہی ایک روز کے لئے ملتوی کردی گئی۔

یہ تینوں ممالک امریکہ پر زور دیتے رہے ہیں کہ اس قرارداد میں مزید ترامیم کریں تاکہ اسے عالمی سطی پر حمایت حاصل ہو۔

روس، فرانس اور جرمنی نے عراقی حکومت کے قیام کے لئے انتخابات کے ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کیا تھا۔ ان ممالک نے عراق میں اقوامِ متحدہ کے کردار اور امن فوج کے مستقبل کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی تھی۔

امریکہ کی تجویز کردہ قرار داد پر چین سمیت ان تینوں ممالک کو اعتراض تھا جس کی بنیاد پر اس میں ترامیم کی گئیں تھیں۔

چین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے بعد قرارداد قابلِ قبول بن گئی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد