| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نطفہ جاننے کے حق کی مذمت
برطانیہ میں کئی ڈاکٹروں نے حکومت کے اس خیال کی مذمت کی ہے کہ نطفہ کے عطیہ کے ذریعہ پیدا ہونے والے بچوں کو اپنے حقیقی یا حیاتیاتی باپ کے بارے میں تحقیق کرنے کا حق دیا جائے۔ حکومت نے اس سلسلے میں عوامی مشاورت کی ہے اور اطلاعات کے مطابق آئندہ ہفتے ملک میں ایسا قانون متعارف کر لیا جائے گا جس کے تحت سپرم یا تولیدی جرثومہ کے عطیہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچے اپنی حقیقی باپ تک پہنچ سکیں گے۔ اس وقت برطانیہ میں ان جرثوموں کا عطیہ دینے والوں کے نام خفیہ رکھنے کی ضمانت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اگر اس راز کو تحفظ حاصل نہ رہے تو لوگ اپنے نطفوں کا عطیہ دینے سے گریز کرنے لگیں گے۔ جبکہ اس قانون میں تبدیلی کے حامی افراد کا موقف ہے کہ اگر اس طرح سے جنم لینے والوں بچوں کو تا عمر ’نطفہ ناتحقیق‘ رکھا گیا تو ان کی نفسیات پر اس کے نقصان دہ اثرات مرتب ہوں گے۔ برطانیہ میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کا نطفہ کسی دوسرے شخص سے حاصل کرنے کے بعد ماں کے بیضے کی تخم ریزی کی جاتی ہے۔ نطفہ کا عطیہ دینے والے زیادہ تر افراد طالب علم ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||