نئی کابینہ کے پرانے وفادار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی نئی کابینہ میں جس کا اعلان من موہن سنگھ کے بطور وزیرِ اعظم حلف کے ساتھ ہوا، گاندھی خاندان کے عمر رسیدہ وفاداروں کا غلبہ ہے۔ ساتھ ہے اس کابینہ میں وہ رہنما ہیں جو علاقائی لحاظ سےکافی مضبوط تصور کیے جاتے ہیں۔ دہلی سے بی بی سی نیوز آن لائن کے نامہ نگار سوتک بسواس کہتے ہیں کہ نئی کابینہ میں کئی ایسے لوگ آئے ہیں جن کے پاس مسز اندرا گاندھی اور بعد ازاں ان کے صاحبزادے راجیو گاندھی کی کابینہ میں بھی وزارتیں تھیں۔ مبصرین اس بات پر مایوس ہیں کہ کابینہ تو نئی ہے لیکن اس میں لوگ پرانے ہیں۔ ایک وزیر ارجن سنگھ ہیں جن کی عمر چوہتر برس ہے اور انہوں نے انیس سو ساٹھ میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ ماضی میں کانگریس کے دورِ اقتدار میں ریاستی گورنر اور وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ گاندھی خاندان کے ایک اور وفادار جنہیں کابینہ میں لیا گیا ہے وہ پرانب مکھرجی ہیں جو اڑسٹھ برس کے ہیں۔ وہ تیس سال سے کانگریس کے ساتھ ہیں لیکن انہوں نے پہلی مرتبہ لوک سبھا کا انتخاب جیتا ہے۔ گو وہ انتخابی سیاست میں جیت نہیں پائے لیکن وہ درجن بھر اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں جن میں وزارتِ خارجہ اور وزارتِ مالیات شامل ہیں۔ نٹور سنگھ جو سابق سفارتکار ہیں انہوں نے کیمرج سے تاریخ پڑھی ہے اور انہیں بھی اس مرتبہ وزارت ملی ہے۔ نٹور سنگھ بھی گاندھی خاندان کے وفادار ہیں۔ نٹور سنگھ پاکستان میں سفیر بھی رہے ہیں اور راجیو گاندھی کی کابینہ میں جونیئر وزیر تھے۔ کانگریس سے وفاداری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پارٹی نے ان دو سینیئر سیاستدانوں کو بھی کابینہ میں رکھا ہے جو حالیہ انتخابات میں ہار گئے تھے۔ وہ شیو راج پاٹل اور پی ایم سید ہیں۔ پھر لالو پرشاد یادو کو بھی کابینہ میں لیا گیا ہے جو کانگریس کے اتحادی ہیں اور علاقائی طور پر بہت مضبوط ہیں۔ ان کی اہلیہ بہار کی ریاست کی وزیرِ اعلی ہیں۔ ان کے علاوہ شرد پوار کو بھی کابینہ میں لیا گیا ہے جو علاقائی لحاظ سے کافی طاقتور سیاست دان ہیں۔ وہ ماضی میں کانگریس کا حصہ تھے لیکن پھر اس سے الگ ہوگئے مگر حالیہ انتخابات میں کانگریس ہی کے اتحادی بننے پر راضی ہو گئے۔ ماضی میں وزیرِ دفاع رہنے والے شرد پوار کافی اچھے منتظم سمجھے جاتے ہیں۔ ایک اور تقرری پی چیدم برم کی ہے جو ماضی میں وزیرِ خزانہ رہے ہیں اور وکیل ہیں۔ ہارورڈ سے پڑھے ہوئے چیدم برم کی بطور وزیر تقرری کے باعث سٹاک مارکیٹ کی صورتِ حال بہتر ہونے کا امکان ہے۔ دیانیدی مارن کو بھی کانگریس کا حلیف ہونے پر کابینہ میں رکھا گیا ہے۔ وہ ڈی ایم کے پارٹی کے رہنما ہیں جس کا اثر ملک کے جنوب میں زیادہ ہے۔ تامل ناڈو کی ریاست میں ان کا کیبل نیٹ ورک کا کاروبار بھی ہے۔ سابقہ حکومت کے برعکس جس نے ایک سے زیادہ فلمی ستاروں کو کابنیہ میں نمائندگی دی تھی، کانگریس کی حکومت میں اب تک بالی وڈ سے صرف ایک شخصیت سامنے آئی ہے جن کا نام سنیل دت ہے۔ وہ مسلسل پانچویں مرتبہ ممبئی سے انتخاب جیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||