BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 December, 2004, 06:36 GMT 11:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آصف زرداری پھر رہا

News image
آصف زرداری کی ضمانت منگل کے روز منسوخ کردی گئی تھی۔
سندھ ہائی کورٹ نے بدھ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی ضمانت کی منسوخی کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے اور آصف زرداری کو رہا کردیا گیا ہے۔

زرداری کے وکیل ابو بکر زرداری نے بی بی سی کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس واحد بخش بروہی اور جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے انسداد دہشت گردی کے جج پیر علی شاہ کے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے جس میں جسٹس نظام کیس میں آصف زرداری کی ضمانت منسوخ کرکے انہیں گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

فیصلے کے بعد آصف علی زرداری کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس کے باہر سے پولیس کی گارڈ بھی ہٹا لی گئی ہے۔

ہائی کورٹ نے فیصلے کی معطلی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ضمانت کی منسوخی کے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا اور عدالت کو ضمانت کی منسوخی سے پہلے زرداری کو شو کاز نوٹس جاری کرنا چاہئے تھا۔

عدالت نے زرداری کے وکیل کو زرداری کی رہائی کے لئے تین لاکھ بطور زر ضمانت جمع کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج پیر علی شاہ کو منگل کے دن زرداری کے خلاف فیصلہ دئے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی تبدیل کر دیا گیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے ان کی ضمانت کی منسوخی کے خلاف آئینی درخواست بدھ کی صبح دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج پیر علی شاہ نے یہ فیصلہ بغئیر کوئی قانونی وجہ بیان کیے صادر کیا ہے لہذا اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر زرداری کی رہائی کا حکم دیا جائے۔

ہائی کورٹ سے اس درخواست کی جلد سماعت کی استدعا بھی کی گئ تھی۔
زرداری کو منگل کے روز اسلامآباد ائرپورٹ پر گرفتار کر کے کراچی لایا گیا اور اس کے بعدانہیں بلاول ہاوس میں نظر بند کر دیا گیا۔

منگل کی صبح کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے جسٹس نظام قتل کیس میں آصف علی زرداری کی ضمانت کی درخواست منسوخ کردی تھی اور ان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔ زرداری پر اس کیس میں الزام ہے کہ انہوں نے 1996 میں ہونے والے ایک دوہرے قتل کی واردات کی سازش کی۔ دس جون 1996 کو سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نظام اور ان کے بیٹے ندیم کو نا معلوم افراد نے کراچی کے علاقے PECHS میں قتل کر دیا تھا۔ قتل کی وجہ عوامی مرکز سے ملحقہ ایک کمرشل پلاٹ کی ملکیت کا تنازعہ بتایا جاتا ہے۔

مسٹر زرداری کو منگل کے روز جسٹس نظام کیس میں عدالت میں پیش ہونا تھا اور انہوں نے اسلام آباد جانے کی غرض سے اپنی پیشی کو موخر کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

لیکن انسداد دہشت گردی کے جج سید پیر علی شاہ نے ان کی ضمانت کی درخواست منسوخ کرتے ہوئے ان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ عدالت نے انہیں آٹھ جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
آصف زرداری پر کو اس مقدمے سات اکتوبر سن دو ہزار ایک میں ضمانت ملی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد