مصالحت کی کشتی میں ہلچل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو ان کی رہائی کے ایک ماہ بعد بعد آج اسلام آباد سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ ایسے وقت میں جب حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مصالحت کی باتیں زور پکڑ رہی تھیں یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ یہ نورا کُشتی ہے یا مصالحت کی کشتی پار لگنے سے پہلے ہی ڈوب گئی۔ زرداری کو گزشتہ ماہ بائیس نومبر کو انہیں بی ایم ڈبلیو کار کیس میں سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہا کیے جانے کے بعد سات سال گیارہ ماہ کی اسیری سے نجات ملی تھی۔ آج ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت سے جسٹس نظام الدین قتل کے مقدمہ میں ان کی ضمانت منسوخ ہونے پر دوبارہ قید کر لیا گیا۔ اس مقدمہ میں اکتوبر سنہ دو ہزار ایک میں انہیں ضمانت دی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ضمانت منسوخ کرکے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والے جج پیر علی شاہ کو بھی فوری طور پر تبادلہ کردیا اور ان کی جگہ نیا حصوصی جج مقرر کردیا ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام کے عجائب پر نگاہ رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ ایک دلچسپ پیش رفت ہے۔ آصف زرداری کو اس سے پہلے پانچ نومبر انیس سو چھیانوے کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر مختلف حکومتوں نے قتل ، بدعنوانی اور منشیات اسمگلنگ کے سترہ مقدمات قائم کیے جن میں سے چھ مقدمات میں وہ بری ہوچکے ہیں جبکہ سات بدعنوانی کے مقدمات ، تین قتل کے اور ایک منشیات کا مقدمہ زیرسماعت ہیں جن میں ان کی ضمانت ہوچکی تھی۔ آصف زرداری نے رہائی کے بعد حکومت اور حزب مخالف کے درمیان پل بننے کے دعوے کیے اور وہ لاہور میں پیپلز پارٹی کے تاسیسس اجلاس میں شریک بھی نہیں ہوئے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی آرمی یونیفارم پر بھی انہوں نے تنقید نہیں کی اور حکومت کی خارجہ پالیسی پر بھی نکتہ چینی نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بھی اس عرصہ میں بہت پر اعتماد نطر آتے رہے اور دعوے کرتے تھے کہ اگلے سال انتخابات ہوں گے اور ان کی پارٹی برسر اقتدار آئے گی۔ جنرل مشرف نے جب حال ہی میں بیرون ممالک کا دورہ کیا تو لندن میں ان کے وزیراعظم ٹونی بلئیر سے ملاقات کے موقع پر پیپلز پارٹی کے مظاہرین نے اپنا احتجاج جلد ہی ختم کردیا۔ اگلے روز اے آر ڈی کا سیالکوٹ کا طے شدہ جلسہ عام بھی پیپلز پارٹی کے کہنے پر منسوخ کردیا گیا جس پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما خاصے خفا نظر آتے تھے اور اے آر ڈی کا اتحاد ٹوٹنے کی باتیں کی جارہی تھیں۔ کہا جارہا تھا کہ متحدہ مجلس عمل اور خصوصا جماعت اسلامی وردی کے معاملہ پر صدر جنرل مشرف کے خلاف جو احتجاجی تحریک چلانا چاہ رہی ہے اس سے اے آر ڈی کو دور رکھنے کے لیے صدر مشرف پیپلز پارٹی کو رعائتیں دے سکتے ہیں۔ تاہم دو تین روز سے سیاسی مطلع پھر ابر آلود نظر آنے لگا تھا۔ صدر مشرف نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے بارے میں کھرے کھرے الفاظ میں کہا کہ لوگ انہیں بھول جائیں اور اگلے انتخابات ان کے بغیر ہوں گے۔ صدر مشرف کا لہجہ بدلا ہوا تھا جو اس قومی مفاہمت کی بات کی نفی تھا جس کی طرف حکمران جماعت مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین اور وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشید احمد حالیہ دنوں میں عندیہ دیتے آرہے تھے۔ شیح رشید احمد نے کہا تھا کہ سیاسی کھچڑی پک رہی ہے اور دیکھیے اس میں سے کیا نکلتا ہے۔ صدر مشرف کے بیانات کے فورا بعد چودھری شجاعت حسین جو خاصے عرصہ سے ملک سے باہر خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے وطن واپس آگئے اور انہوں نے بھی اعلان کیا کہ انتخابات سنہ دو ہزار سات میں ہی ہوں گے اور کوئی قومی حکومت نہیں بن رہی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زرداری سےڈِیل نہیں کی گئی بلکہ ان کو ڈھیل دی گئی ہے۔ اس سے پہلے صدر مشرف کہہ چکے تھے کہ وہ زرداری کو ہینڈل کرلیں گے۔ حکومت کے ان اشاروں اور زرداری کے راولپنڈی سے پنجاب کا سیاسی دورہ شروع کرنے کے پروگرام سے یوں لگتا ہے کہ حکومت اور پیپلزپارٹی کے مابین ہونے والی مفاہمت کی بات چیت کسی رکاوٹ سے دوچار ہوگئی ہے۔ آصف زرداری کی رہائی کی وقت یہ قیاس آرائیاں گردش کررہی تھیں کہ وہ کچھ وعدے کرکے باہر آئے ہیں لیکن لگتا ہے کہ سندھ میں ان کے پُرجوش استقبال کے بعد وہ اپنے وعدے بھولنے لگے تھے اور دوبارہ دھر لیے گئے۔ جو لوگ کہتے تھے کہ وہ عدالتی حکم پر باہر آئے تھے ان کے لیے شائد یہی بات کافی ہے کہ انہیں عدالتی حکم پر ہی گرفتار کرلیا گیا۔ شائد حکومت کے ترجمان بھی اس پر یہی تبصرہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||