’وزیرِ اعلیٰ کا نام سب سےپہلےآئےگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جان کو کچھ ہوا تو جس صوبے میں یہ واقعہ ہو گا اس کے وزیراعلی کا نام سب سے پہلے ایف آئی آر میں درج کرایا جائے گا۔ انہوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ عام انتخابات آئندہ سال ہی ہونگے۔ طویل اسیری سے رہائی پانے کے بعد اندرون سندھ کا دورہ کرکے کراچی آکر انہوں نے اسے انتخابی مہم کی ابتدا قرار دیا ہے اور کہا کہ کوئی کچھ کہے عام انتخابات آئندہ سال منعقد ہونگے۔ بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف اور امریکی سفیر کہتے ہیں کہ انتخابات 2007 میں ہوں گے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ آئندہ سال ہوں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سے ان کی مراد عام انتخابات ہے بلدیاتی انتخابات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا مطالبہ پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ اے آرڈی کا بھی ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ سندھ کے وزیراعلی انہیں کہہ رہے ہیں کہ اپنی حفاظت کروں اور ’یہ صوبے میں امن وامان کی خراب صورتحال کا ثبوت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اگر کچھ ہوا تو جس صوبے میں یہ واقعہ ہوا اس کے وزیراعلی کا نام سب سے پہلے ایف آئی آر میں درج کرایا جائےگا۔ ’اس طرح کی سازشیں محلاتی ہوتی ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ موت برحق ہے‘۔ آصف علی زرداری نے اس تاثر کو غلط قراردیا کہ جیل سے باہر آنے کے بعد ان کے لہجے میں نرمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی درست نہیں کہ وہ متبادل لیڈر کے طور پر سامنے لائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل لیڈر بے نظیربھٹو ہی ہیں۔ زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی احتجاجی سیاست پر نہیں بلکہ ووٹ کی قوت پر یقین رکھتی ہے اور پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک اس وقت بھی سب سے زیادہ ہے اور عوام کے مسائل کا حل بھی اسی کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی برسراقتدار آنے کے بعد بھٹو کیس کی دوبارہ تفتیش کرائے گی تاکہ دنیا کو اصل حقیقت معلوم ہوسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||