وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف لے لیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے نئے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم نے حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاوس میں ہوئی ۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے ان سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں صوبائی اسمبلی کے ارکان کی علاوہ دیگر افراد نے شرکت کی۔ تھرپارکر سے سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے ارباب غلام رحیم کو اج اسمبلی کے ارکان کی اکثریت نےقائد ایوان منتخب کر لیا ہے۔انھیں 167اراکین اسمبلی کے ایوان میں 98 ووٹ ملے۔ منتخب ہونے کے بعد ارباب رحیم نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ان کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنے پر حزب اختلاف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ وہ این ایف سی ایوارڈ اور پانی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دیں گے۔ اور انھیں امید ہے کہ وفاقی حکومت بھی اس سلسلے میں صحیح فیصلہ کرے گی۔ حرب اختلاف کے ارکان اسمبلی کے شور شرابے کے دوران انھوں نے اپنی تقریر مکمل کی۔ اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے کے بعد قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اراکین اسمبلی کو آذادانہ طور پر فیصلہ کرنے سے روکا گیا۔ نہ صرف وفاق سے مداخلت ہوئی بلکہ نئے وزیر اعلی کا فیصلہ پاکستان کے باھر سے بھی مسلط کیا گیا۔ ان کا اشارہ شاید چند روز قبل متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور ارباب غلام رحیم کے درمیان لندن میں ہونے والی ملاقات سے تھا۔ نثار کھوڑو نے مذید کہا کہ سابق وزیر اعلی علی محمد مہر نے استعفی دینے کے بعد کہا تھا کہ انھوں نے سندھ کے پانی اور این ایف سی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے وزیر اعلی نے اس حوالے سےسندھ کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ کیا ھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||