BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 June, 2004, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: وسیع تر مخلوط حکومت

پاکستان
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سندھ کی رو مرکز تک جا سکتی ہے
پاکستان کی حکمران جماعت نے حزب اختلاف کو صوبہ سندھ میں قومی اتفاق رائے کی حکومت بنانے کی پیشکش کردی ہے۔ حزب اختلاف نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو دینے کی صورت میں بات چیت آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے حزب اختلاف کی نشستوں پر جا کر اتحاد برائے بحالی جمہوریت، کے رہنما مخدوم امین فہیم اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد سے ملاقات کی اور پیشکش بھی کی۔

ملاقات کے بعد چودھری شجاعت نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سندھ میں اتفاق رائے کی حکومت تشکیل دی جائے تاکہ مؤثر طریقے سے امن امان قائم رکھنے کے اقدامات کیے جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ امین فہیم نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو دینے کا مطالبہ کیا جبکہ قاضی حسین احمد نے بھی ان کی حمایت کی۔ تاہم ان کا کہنا تھا ان کی ترجیع فوری امن کا قیام ہے اور وزارت اعلیٰ کے عہدے کے بارے میں بعد میں بات ہوگی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جمالی حکومت سے مطمئن ہیں تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ مطمئن ہونے کی بات نہیں پہلے سندھ میں مسئلہ حل کرلیں پھر مرکز میں کریں گے۔

ایک ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے چودھری شجاعت کا کہنا تھا کہ وزارت اعلیٰ کے عہدے کو چھوڑیں، کراچی میں جو معصوم لوگ مر رہے ہیں ان کی فکر کریں ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر سیاستدانوں نے مسئلے کا حل نہیں نکالا اور عہدوں پر بضد رہے تو پھر لوگ کہیں گے کہ چلیں گورنر راج لگوادیں۔

اس ضمن میں جب مخدوم امین فہیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے حکومتی پیشکش ہونے کی تصدیق کی وہ کہہ رہے تھے کہ پہلے دن سے ان کا مؤقف ہے کہ سب سے زیادہ نشتیں حاصل کرنے والی جماعت کا حق ہے کہ حکومت بنائے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابات کے بعد خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ان کی جماعت کے ارکان کو توڑا اور اقلیت کو اکثریت پر غالب کیا۔ مخدوم کا کہنا تھا کہ حکومت پیپلز پارٹی سے شرمائے نہ بلکہ ان کی اکثریت تسلیم کرے اور انہیں وزارت اعلیٰ کا عہدہ دیا جائے پھر وہ بات آگے بڑھائیں گے ۔ تاہم ان کی رائے تھی کہ وہ بات چیت کرنے کے حق میں ہیں۔

دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے سندھ میں قومی اتفاق رائے سے مخلوط حکومت کے قیام کی حکومتی پیشکش مسترد کردی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے فوجی جنتا کو بحران سے نکالنے کے بدلے نہ پہلے کبھی سندھ میں وزارت اعلیٰ کے عہدے کا مطالبہ کیا ہے نہ آئندہ کرے گی ۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت یہ تاثر قائم کر رہی ہے کہ پیپلزپارٹی نے فوجی رجیم کے خود ساختہ بحران سے انہیں نکالنے کے لئے سندھ کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ مانگا ہے جو کہ غلط ہے۔

حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ میں قومی اتفاق رائے کی حکومت بنانے کی حزب اختلاف کو کی گئی غیر متوقع پیشکش کو سیاسی مبصرین خاصی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

بعض مبصرین اس پیش رفت کا یہ نتیجہ بھی اخذ کر رہے ہیں کہ ایسے لگتا ہے کہ حکومت متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم پر اب زیادہ منحصر نہیں رہنا چاہتی اور اگر سندھ میں ایسی حکومت قائم ہوئی تو مرکز میں بھی ایسا تعاون ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد