تھرپارکر کے ارباب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مستعفی ہونے سے دو ہی دن قبل چونتیس سالہ وزیر اعلیٰ علی محمد مہر نے کہا تھا کہ وزارت اعلیٰ کے امیدوار سیاستدان کے ہاتھ میں اگر لکیر ہو گی تو وہ وزیر اعلیٰ ضرور بنیں گے۔ ان کا اشارہ ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر حضرات کی طرف تھا جو علی محمد مہر کی کابینہ میں وزیر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ان کے ممکنہ جانشین کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ یہ لکیر ارباب غلام رحیم کے ہاتھ میں نمودار ہوئی۔ اکاون سالہ ارباب غلام رحیم صوبہ سندھ کے ایسے ریگستانی علاقے تھرپارکر سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پینے کے پانی سے لیکر سفر کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولت تک سے لوگ محروم ہیں۔ ارباب غلام رحیم نے 1985 میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ ضلع تھرپارکر میں ضلع کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے اور پھر آگے بڑھتے رہے۔ اسمبلی کے انتخابات میں 1988 میں ناکامی کے بعد انہوں نے انتخابات میں کامیاب ہونے کا گر سیکھا اور پھر 1990، 1993، 1998 اور 2000 میں ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہوتے چلے آئے۔ کبھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر تو کبھی نواز شریف کے ہمنوا بن کر سیاست کرتے رہے۔ جب 2002 میں سابق سرکاری ملازم امتیاز شیخ نے سندھ ڈیموکریٹک الائنس کھڑا کیا تو ارباب غلام رحیم بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ عام انتخابات میں امتیاز شیخ تو شکست کھا گئے لیکن پورے ضلع تھرپارکر کی قومی اسمبلی کی دونوں اور صوبائی اسمبلی کی چاروں نشستیں ارباب غلام رحیم سمیت ان کے بھائیوں اور حامیوں نے حاصل کر لیں۔ اس کامیابی نے ان کے اعتماد میں اس قدر اضافہ کیا کہ امتیاز شیخ کے ساتھ ان کے تعلقات میں دراڑ پڑ گئی اور دونوں ہی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کی خواہش لیئے ہر در و دروازے پر حاضری دینے لگے۔ ارباب غلام رحیم سندھ کے 26ویں وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ کیا وہ اپنے پیش رو کے مقابلہ میں کامیاب رہیں گے؟ بظاہر ان کی تبدیلی صرف چہرے کی تبدیلی نظر آتی ہے۔ لیکن تھرپارکر کے اربابوں کے مزاج اور سیاست کرنے کے طریقہ سے آگاہ لوگ برملا کہتے ہیں کہ ارباب غلام رحیم علی محمد مہر سے زیادہ تحمل، برداشت اور شرافت کا مظاہرہ نہیں کر سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||