کوئی تبدیلی نہیں آ رہی: شیر پاؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کی رہائی سے ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی درمیانی مدت کے انتخابات ہوں گے۔ بدھ کے روز ’کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، میں بریفنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’حکومت مضبوط ہے اور مجھے کوئی سیاسی تبدیلی نظر نہیں آرہی،۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آئندہ سال انتخابات ضرور ہوں گے لیکن وہ بلدیاتی ہوں گے۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کو گزشتہ پیر کے روز سپریم کورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور مسلسل آٹھ برس قید میں رہنے کے بعد وہ رہا کردیے گئے تھے۔ آصف زرداری نے رہائی کے بعد کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ سال عام انتخابات ہوں گے اور ان کی جماعت کی کامیابی کا امکان ہے۔ زرداری کی رہائی کے بارے میں قومی احتساب بیورو کے ترجمان نے کہا تھا کہ وہ ضمانت پر رہا ہوئے ہیں، البتہ ان کے خلاف تمام مقدمات بدستور عدالتوں میں موجود ہیں اور کوئی مقدمہ واپس نہیں لیا جائے گا۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ جب پارلیمان چل رہی ہے، حکومت اپنا کام کر رہی ہے اور حزب مخالف بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے، تو ایسے میں حکومت کی تبدیلی یا قبل از وقت انتخابات کیوں ہوں؟ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا کہ آصف علی زرداری کا نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ، پر موجود ہے کیوں کہ جس پر بھی احتساب بیورو مقدمہ دائر کرتا ہے ان کا نام ملک سے باہر جانے پر پابندی کے متعلق لسٹ میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ قبائلی علاقوں پر سکیورٹی ایجنسیوں کا مکمل کنٹرول ہے اور شتر فیصد محسود علاقے سے شرپسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان بھر سے غیر ملکی شرپسندوں کو نکالنے تک یہ کارروائی جاری رہے گی۔ عبداللہ محسود سے مذاکرات کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے چینی انجنیئرز کو اغوا کر کے گومل زام ڈیم پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کرائی ہے اس لیے ان سے بات چیت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکومتی اتحاد مشترکہ امیدوار نامزد کرے گا تاکہ بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن سے وزیراعظم کی ملاقات کے بارے میں سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اچھی ابتدا ہے اور وزیراعظم دیگر حزب مخالف کے رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||