آٹھ سال قید مگر مونچھ اونچی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے آج کل اپنی لمبی موچھیں تو تراش لی ہیں لیکن ہر وقت موچھوں پر ہاتھ پھیرنے کی ان کی عادت اب بھی نہیں گئی۔ آصف زرداری جو پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر بھی ہیں، پانچ نومبر سن انیس سؤ چھیانوے سے جب ان کی جماعت کی حکومت ان ہی کے منتخب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں برطرف کئے جانے کے بعد سے اب تک مسلسل جیل میں ہیں۔ فاروق لغاری کی قائم کردہ نگران حکومت سے لے کر جنرل مشرف کی جمالی سرکار تک، ملک میں سات سال سے زائد عرصہ میں چار حکومتیں آئیں لیکن زرداری جیل میں ہی رہے۔ یہ اور بات ہے کہ نوازشریف کے دورِ حکومت میں احتساب پر مامور سیف الرحمان، زرداری پر مقدمات بنانے کے باوجود جب خود جیل گئے، تو انہوں نے زرداری سے معافی مانگی۔ زرداری پر قتل، بدعنوانی اور منشیات سمگل کرنے کے الزامات سمیت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مقدمات قائم کئے گئے لیکن تا حال ان کو سزا صرف دو مقدمات میں ہوئی۔ ایک مقدمہ میں نواز شریف حکومت کی فرمائش پر زرداری کو سزا دینے والے جج، جسٹس قیوم الزام ثابت ہونے پر نوکری سے نکال دیئے گئے۔ جبکہ دوسرے کیس میں ملنے والی سزا کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کر رکھی ہے جو زیر سماعت ہے۔ زرداری کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے مختلف نوعیت کے مقدمات کی پیروی کرتے کرتے بہت اچھے وکیل بن چکے ہیں اور بعض دفعہ وکلاء کو وہ عدالت میں بحث کے دوران لکمے بھی دیتا ہے۔ شروعات میں تو زرداری کے متعلق ان کی جماعت اور عام لوگوں میں بھی شاید ہی کوئی ہمدردی ہو لیکن جیسے جیسے وقت گذرا وہ پارٹی اور عام لوگوں میں ہمدردی حاصل کر تے رہے۔ باالخصوص سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف جب مبینہ طور پر حکومت سے ڈیل کرکے سعودی عرب چلے گئے اور زرداری جیل کاٹتے رہے اس کے بعد عام لوگوں میں تو ان کے لئے ہمدردی پیدا ہوئی ہی لیکن ان کے بدترین سیاسی مخالف چودھری شجاعت کہتے ہیں ’ زرداری کرپٹ ہے جیڑا وی اے شیر دا پتر ہے‘ ۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وہ تین برس اس سے پہلے بھی جیل کاٹ چکے ہیں جب بے نظیر بھٹو کی سن انیس نوے میں حکومت ختم ہوئی تھی تو وہ جیل چلے گئے اور متعدد بدعنوانی کے مقدمات بنے لیکن بعد میں اس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان سے پیپلز پارٹی کے ایک سمجہوتے کے نتیجہ میں جیل سے باہر آئے تھے بلکہ ان کے بقول بدعنوانی کے مقدمات بنانے والے غلام اسحاق کے ہاتھوں بطور نگران وزیر حلف بھی اٹھایا تھا۔ سن انیس سؤ اٹھاسی سے آج تک تقریبا سولہ برس میں یا تو وہ وزیر اعظم ہاؤس میں رہے یا پھر جیل میں۔ آصف زرداری کا دعویٰ ہے کہ وہ دس برس سے زائد جیل میں گذار چکے ہیں لیکن جب بھی وہ وزیراعظم ہاؤس میں ہوں یا جیل میں، انہیں مکمل پروٹوکول حاصل رہا ہے اور تین چار پولس کی گاڑیاں سائرن بجاتے ہوئے ان کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں چلتی رہتی ہیں۔ کچھ دن پہلے جب ان سے عدالت میں ملاقات ہوئی تو وہ کہہ رہے تھے کہ ان کو جیل میں اتنا عرصہ ہوا ہے کہ ان کے بچے بھی جوان ہوگئے ہیں، لیکن وہ اپنے قائد مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے نقش قدم پر ثابت قدم ہیں یہ ان کی بڑی خوش قسمتی ہے۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت جہاں داخل ہونے کے لئے پہلے سے اجازت لینی پڑتی ہے، ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکنان زرداری سے ملنے آتے ہیں۔ جس میں کچھ پارٹی میں عہدے وغیرہ لینے کی سفارش کرانے تو کوئی کسی اور کام سے لیکن بعض ان کے ایسے بھی دوست اور ہمدرد ہوتے ہیں جو ہر حاضری پر بغیر کسی غرض سے ملنے آتے ہیں۔ صبح سے جب وہ عدالت آتے ہیں تو دوپہر دو اڑھائی بجے تک رہتے ہیں اس دوران وہ عدالتی احاطے کے اندر ایک اور اپنی عدالت لگاتے ہیں۔ وھیل چیئر پر بیٹھ کر جہاں نہ صرف پارٹی کارکنان کے مسئلے حل کرتے ہیں بلکہ اپنے انتخابی حلقے کے معاملات بھی طئے کرتے ہیں۔ وہ کسی کو چٹھی، کسی کو کارڈ اور کسی کے لئے فون بھی کردیتے ہیں، لیکن آخر میں دعا بھی سندھی وڈیرہ کی طرح فخریہ انداز میں دیتے ہیں۔ ان کے والد تو سرمائیدار تھے لیکن آصف کی دلچسپی صنعت کاری کے ساتھ ساتھ زمینداری کی طرف بھی زیادہ رہی۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ پولس والے بھی ان کو ’وڈیرہ قیدی، کہتے ہیں۔ خیر جیل میں کوئی کیسے بھی رہے لیکن جیل تو جیل ہے نہ ! آصف زرداری سے ملنے ہر قسم کے لوگ آتے ہیں کوئی کہتا ہے کہ انہوں نے فلاں پیر فقیر سے دم کراکے پانی لایا ہے کوئی دم والا دھاگہ لاتا ہے، کوئی اسے جیل سے باہر آنے کے وظیفے بتاتا ہے تو کوئی دیگر وظیفے لیکن وہ سب کی باتیں بڑے غور سے سنتا ہے اور مفت میں مشورے دینے والوں کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے لیکن کرتا وہ ہی ہے جو خود ٹھیک سمجھتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||