دو سو شدت پسند گینگ تھے: شیر پاؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران حکومت نے ملک بھر سے بیس شدت پسندوں کے گینگ ختم کیے ہیں۔ ان کے بقول دو سو کے لگ بھگ دہشت گرد ملک بھر میں یہ گینگ چلا رہے تھے۔ یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔انہوں نے افغانستان کا نام لیے بغیر کہا کہ پڑوسی ملک سے قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے شدت پسندوں کو اسلحہ وغیرہ فراہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرحد پر سختی کی ہے لیکن سرحد بڑی پیچیدہ ہے اس لیے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق قبائلی علاقوں میں پانچ سو کے لگ بھگ غیرملکی شدت پسند چھپے ہوئے تھے لیکن اب کی تعداد ایک سو کے قریب رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیاں پوری طرح شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں اور دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔ وزیر کے مطابق گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد کئی غیر ملکی دہشت گرد افغانستان سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے تھے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی کارروائیوں سے ملک کے اندر سرمایہ کاری اور سیاحت کے شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ عام آدمیوں کا نقصان نہ ہو۔ ان کے مطابق غیر ملکی دہشت گردوں کا اپنا ایجنڈا ہے جس سے دنیا میں پاکستان بدنام ہو رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||