BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 December, 2004, 06:57 GMT 11:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری بلاول ہاؤس میں نظر بند

News image
آصف زرداری حال ہی میں رہا کئے گئے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کو پولیس کی حراست میں کراچی لانے کے بعد بلاول ہاوس میں نظر بند کر دیا گیا۔

کراچی پہچنے پر انہیں جناح ٹرمنل کے بجائے ٹرمنل نمبر ایک سے باہر نکالا گیا۔
اس موقعے پر کراچی کے ہوائی اڈے پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی جس نے پورے ہوائی اڈے کو گھیرے میں لے رکھ تھا۔ مسافروں کی گاڑیوں کو ہوائی اڈے سے باہر ہی روکا جا رہا تھا اور مسافر پیدل چل کر ہوائی اڈے کی عمارت تک جارہے تھے۔

پولیس کے سخت پہرے کے باوجود پیپلز پارٹی کے درجنوں کارکنوں ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ یہ کارکنوں جنرل مشرف اور حکومت کے خلاف ’ کرنل جنرل بے غیرت‘ کے نعرے بلند کررہے تھے۔

ائیر پورٹ کے لاونج میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ حکومت انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پنجاب کا دورہ کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

آصف زردای کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ وہ ضمانت منسوخ کیے جانے کے فیصلے کے خلاف بدھ کو عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔

آصف زرداری کو منگل کی صبح کراچی سے اسلام آباد پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری جسٹس نظام کے قتل کے الزام میں قائم مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔

منگل کی صبح اسلام آباد ائیر پورٹ پر آمد کے وقت رن وے سے اپنے موبائیل پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسٹر زرداری نے اپنی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ ان غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو وہ جانتے ہیں اور اس کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

اس موقع پر اسلام آباد ائیر پورٹ پر ان کے استقبال کے لیے اکھٹے ہونے والے سیاسی کارکنوں کی پولیس سے جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے منگل کی رات کو دعوی کیا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں آصف زرداری کے استقبال کی تیاریاں کرنے والے ان کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

منگل کی صبح کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے جسٹس نظام قتل کیس میں آصف علی زرداری کی ضمانت کی درخواست منسوخ کردی تھی اور ان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔

مسٹر زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے بی بی سی کو خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسٹر زرداری کراچی سے اسلام آباد جانے کے لیے کراچی کے ائیر پورٹ پر پی آئی اے کی ایک فلائٹ PK-368 پر سوار ہوئے اور ابتدائی طور پر ان کے جہاز کو رن وے پر روکے رکھنے کے بعد اسے اسلام آباد کے لیے پرواز کی اجازت دے دی گئی۔

مسٹر زرداری کو منگل کے روز جسٹس نظام کیس میں عدالت میں پیش ہونا تھا اور انہوں نے اسلام آباد جانے کی غرض سے اپنی پیشی کو موخر کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

لیکن انسداد دہشت گردی کے جج سید پیر علی شاہ نے ان کی ضمانت کی درخواست منسوخ کرتے ہوئے ان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ عدالت نے انہیں آٹھ جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

فاروق نائیک کا کہنا ہے کہ ان کے موکل عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ آصف زرداری پر کو اس مقدمے سات اکتوبر سن دو ہزار ایک میں ضمانت ملی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد