سندھ: چار ضلعی ناظم برخاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صوبہ سندھ کی حکومت نے لاڑکانہ، جیکب آباد، میر پور خاص اور دادو کے ضلعی ناظموں کو برخواست کر دیا ہے۔ ان چاروں اضلاع کو حال ہی میں تقسیم کر کے نئے اضلاع بنائے گئے تھے۔
اے پی پی کی خبر کے مطابق ضلعی رابطہ افسر نئے انتخابات تک ان اضلاع کا انتظام چلائیں گے۔ لاڑکانہ کے ناظم خورشید جونیجو نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فون پر بتایا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر ان کے برخواست کیے جانے کی خبر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت ڈی سی او ان جگہ کام نہیں کر سکتے اور وہ حکومت کے فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔ جیکب آباد کے ناظم شبیر بجرانی نے کہا کہ برطرف کیے جانے والے چاروں ناظم عوام دوست گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جو پی پی پی کے تعاون سے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سرکاری طور کچھ نہیں بتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جلد بازی میں جذباتی فیصلہ کیا ہے۔ بجرانی نے کہا کہ اس سے پہلے بلوچستان میں بھی ایک ضلع کو تقسیم کیا گیا تھا جہاں اس وقت کے وزیر اعظم کے ایک عزیز ناظم تھے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی تقسیم کے بعد ناظم کو ہٹانے کی بجائے ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ کس ضلع کے ناظم بننا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||