سردار عادل عمر کے خلاف عدم اعتماد کالعدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کو لاہور ہائی کورٹ نے لاہور کے علامہ اقبال ٹاؤن کے ناظم سردار عادل عمر کے خلاف منظور کی گئی تحریک عدم اعتماد کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے اپنے مختصر حکم نامہ میں کہا کہ یہ تحریک عدم اعتماد قانونی تقاضے پورے نہیں کرتی اور درخواست دہندہ کی رِٹ درخواست منظور کی جاتی ہے۔ رِٹ درخواست میں عادل عمر کے وکیل احسن بھونی نے کہا تھا کہ سات جولائی کو سردار عادل عمر کے خلاف منظور کی گئی تحریک عدم اعتماد پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس سنہ دو ہزار دو کی سیکشن تریسٹھ اور انہتر کے قانونی تقاضے پورا نہیں کرتی۔ تاہم دوسرے فریق کے وکیل اعظم نذیر نے چیف جسٹس سے کہا کہ وہ سردار عادل عمر کے خلاف نئی تحریک عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں تو جج نے کہا کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں اور ’آپ لائیں سو بسم اللہ۔‘ سات جولائی کو علی الصبح بدعنوانی، بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات لگاتے ہوئے سردار عادل عمر کے مخالف گروپ نے نائب ناظم میاں جاوید کی قیادت میں بیس ارکان کی موجودگی میں اتفاق سے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کرلی تھی۔ اس روز سردار عادل عمر اور ان کے ساتھی ایوان میں نہیں آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر کوئی تاریخ درج نہیں تھی اور نہ ہی اس مقصد کے لیے اجلاس بلایا گیا تھا۔ نو جو لائی کو عدالت عالیہ لاہور نے عدم اعتماد کی کارروائی کو معطل کرکے سردار عادل عمر کو ان کے عہدے پر بحال کردیا تھا۔ سردار عادل عمر اور میاں جاوید دونوں کا تعلق حکمراں جماعت مسلم لیگ قائد اعظم سے ہے تاہم ماضی میں سردار عمر عادل اور ضلعی ناظم میاں عامر کے ساتھ لڑائی کی حد تک اختلافات ہوئے ہیں۔ لاہور کی مقامی سیاست برادریوں پر منسقںم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||