BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 November, 2004, 07:40 GMT 12:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضلعی ناظم بااختیار

ضلعی ناظم
ضلعی ناظم اب ضلعی پولیس افسر کی اے سی آر لکھیں گے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے پولیس آرڈر دوہزار دو میں ترمیم کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کیا ہے، جس کے مطابق ضلعی پولیس سربراہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ ’اے سی آر، لکھنے کا اختیار ضلع ناظم کو دے دیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے مطابق متعلقہ پولیس افسر کی ترقی کے وقت ناظم کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔ البتہ کسی افسر کے خلاف رائے درج کرنے سے قبل ناظم پر لازم ہوگا کہ وہ متعلقہ افسر کو اپنی رائے کے بارے میں آگاہ کریں اور صفائی کا موقع دیں۔ ناظم کسی افسر کے خلاف رائے کی وجوہات بھی لکھنے کے پابند ہوں گے۔

برطانوی دور کا پولیس قانون تبدیل کرتے ہوئے اصلاحات کے نتیجے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے سن دو ہزار میں نیا پولیس قانون متعارف کرایا تھا۔پولیس آرڈر بنیادی طور پر صوبائی قانون ہے لیکن اس میں ترمیم کا اختیار صوبوں کو حاصل نہیں۔

سترویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں اس قانون میں ترمیم کا اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے لیکن اس کے لیے صدر کی پیشگی اجازت لازم ہے۔ یہ آرڈیننس ایوان بالا سینیٹ کے پہلے سے طلب کردہ اجلاس سے محض ایک دن قبل یعنی پچیس نومبر کی تاریخ میں رات گئے جاری کیا گیا ہے۔

ترمیمی آرڈیننس فوری طور پر ملک بھر میں لاگو ہوگا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ تمام صوبائی حکومتوں کی رضامندی سے یہ آرڈیننس جاری ہوا ہے۔

کچھ دن قبل وزیراعظم شوکت عزیز نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب میں پولیس قوانین میں ترامیم کا ذکر کیا تھا جس کا مقصد انہوں نے عوام کو سہولت فراہم کرنا اور غیرقانونی اقدام کرنے والے پولیس اہلکاروں کو سزا دینا بتایا تھا۔

پہلے سے نافذ قانون کے مطابق صوبے اور ضلع کی سطح پر’پبلک سیفٹی کمیشن، اور ’پولیس کمپلینٹ اتھارٹی، کے نام سے دو علیحدہ ادارے قائم ہونے ہیں لیکن اس ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے دونوں اداروں کو ملا کر ایک ادارہ بنادیا گیا ہے۔ البتہ اس ادارے کو مکمل طور پر مالی خودمختاری دی گئی ہے۔

صدر پرویز مشرف نے اس قانون کی منظوری کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد پولیس معاملات میں سیاسی مداخلت ختم کرنا ہے۔ لیکن ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ’پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹ کمیشن، میں ایک تہائی اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے منتخب اراکین جبکہ اتنی ہی تعداد میں ضلع کونسل کے اراکین شامل کیے جارہے ہیں۔ تاہم اس کمیشن میں خواتین کی نمائندگی کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔

یہ کمیشن انسپیکٹر جنرل کا تبادلہ کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے ذریعے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیج سکے گی، لیکن اس سے پہلے متعلقہ افسر کو صفائی کا موقع فراہم کیا جانا لازم ہوگا۔ جبکہ غلط ایف آئی آر درج کرنے یا کسی معاملے میں ایف آئی آر درج نہ کرنے یا اس میں تاخیر کرنے والے افسر کے خلاف کاروائی کی بھی مجاز ہوگی۔

امن امان کی بہتری کے لیے وزیراعلیٰ اور ضلع ناظم کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پولیس سربراہان کو احکامات اور ہدایات جاری کرسکیں۔

ترمیمی آرڈیننس کے مطابق پولیس کا تفتیشی شعبہ ہر تھانے کے احاطے میں قائم کرنا لازم ہوگا۔ واضح رہے کہ پولیس آرڈر کے مطابق تفتیش کا شعبہ علیحدہ کیا گیا تھا اور کچھ تھانوں میں یہ شعبے تھانے کے احاطے سے باہر قائم کیے گئے تھے۔

ترمیمی آرڈیننس میں صوبائی پولیس افسر، کیپیٹل پولیس چیف یا سٹی پولیس چیف کو امن امان کی خاطر پولیس تھانوں اور سب ڈویزن کی حدود کے تعین کا اختیار دیا گیا ہے لیکن وہ حکومت سے پیشگی اجازت سے مشروط ہوگا۔

آرڈیننس میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ تحصیل اور تھانے کے انچارج کی تعیناتی کی مدت بھی ضلعی پولیس چیف کی مدت کے برابر ہوگی۔ مقررہ میعاد سے قبل کسی افسر کا تبادلہ صرف اور صرف متعلقہ افسر کے خلاف بڑی غفلت یا بد کرداری کے بارے میں شکایات کی صورت میں کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد