سندھ: دو قیدی ہلاک، دس فرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے شہر نوشہرو فیروز میں عدالت میں حاضری کے لیے لائے جانے والے دو قیدی اس وقت ہلاک ہوگئے جب ان کے فرار ہونے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پولیس کو گولی چلانی پڑی۔ اس واقعے میں دس قیدی فرار ہونے میں کامیاب رہے اور چودہ پولیس والے اور قیدی زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق سماعت کے لیے لائے جانے والے قیدیوں کی تعداد اسُی تھی۔ ان قیدیوں کو ڈیڑھ سو کلومیٹر دور سکر سنٹرل جیل سے نوشہرو فیروز میں عدالتی سماعت کے لیے لایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق جیسے ہی سرور رند نامی ایک قیدی گاڑی سے فرار ہونے کے لیے اترا پولیس نے اس پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں وہ جائے وقوع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ تاہم کچھ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ جس پولیس والے نے گولی چلائی اس کے دو بھائی سرور رند کے ہاتھوں مارے گئےتھے۔ پولیس کے مطابق سرور کی ہلاکت پر دیگر قیدی غصے میں آگئے اور ایک قیدی نے پولیس کا رائفل چھین کر اندھادھند فائرنگ شروع کردی جس کے دوران کئی قیدی اور پولیس والے زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سنگین حالت میں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایک قیدی کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ ڈِسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالغفور کلہوڑو کا کہنا ہے کہ اس افراتفری میں کئی قیدی عدالت کے کمروں میں کھلے عام گھومتے رہے جس کی وجہ سے ججوں اور وکیلوں میں خوف کا عالم تھا۔ پولیس کے مطابق افراتفری کے اس ماحول میں دس قیدی فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ لیکن بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کچھ ججوں کی اپیل پر کئی قیدیوں نے ہتھیار واپس کردیے۔ اس واقعے کے بعد ڈِسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے ریڈر امیر علی تھاری نے پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ عدالت میں سکیورٹی کے نظام کا جائزہ لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||