مبینہ ڈاکو یا جیشِ محمد کے رکن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان میں پولیس کا کہنا ہے کہ دس دن پہلے ڈیرہ غازی خان میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے چار ڈاکوؤں کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد سے ہے۔ پولیس کو یہ شک بھی ہے کہ ان میں سے ایک ملک کا سب سے مطلوب مبینہ دہشت گرد امجد فاروقی بھی ہو سکتا ہے ۔ امجد فاروقی حکومت کو صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں اور امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں مطلوب ہے۔ آٹھ جولائی کو ہونے والے اِس مقابلہ میں ڈیرہ غازی خان کے ضِلعی پولیس افسر عثمان خٹک زخمی ہوئے تھے جبکہ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت نہ ہو پائی تھی۔ عدم شناخت کے باعث مارے جانے والےافراد کو ملتان میں نِشتر ہسپتال کےمُردہ خانہ میں رکھوادیا گیا تھا۔ واقعہ کے کچھ روز بعد چار میں سے دو کی شناخت اُن کے گھروالوں نےکر دی تھی۔ اِن میں سے ایک کا نام شمشیر اُور دوسرے کا ضیاءاللہ بتایا گیا۔ دونوں کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ میں واقعہ صحت افزاء مقام فورٹ منرو سے تھا۔ گذشتہ روز قبائلی علاقہ میں امن و امان کی ذمّہ دار بارڈر ملٹری پولیس نے ایک نوجوان اسلم لشاری کو حراست میں لیا جس کے بارے ڈیرہ غازی خان پولیس کو شک تھا کہ اِس کا بینک لوٹنے والے ڈاکوؤں سے تعلق رہا ہے۔ بستی جام کے جِس مکان میں ڈاکوؤں نے بینک لوٹنے کے بعد پناہ لی تھی وہ اسلم کے سُسر عظیم لشاری کی ملکّیت تھا۔ سنیچر کو جب ملزم اسلم کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے ایک عدالت لایا گیا تو موقع پر موجود صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اُس نے باقی دو مُبینہ ڈاکوؤں کے نام رانا محمد افضل عرف عمر اوُر بلال بتائے۔ اسلم کے مطابق عمر کا تعلق ضلع راجن پور کے علاقہ فاضل پور سے تھا جبکہ بلال کا راولپنڈی سے۔ اُس کا کہنا تھا کہ بلال سے اُس کی ملاقات حال ہی میں ہوئی تھی اُور اُسے شک ہے کہ اُس کا اصلی نام کچھ اُور ہوگا۔ پولیس کے ایک اعلیْ افسر نےاپنا نام اُور عہدہ صیغہِ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اسلم کالعدم جیشِ محمد کا ضِلعی سیکرٹری اطلاعات رہا ہے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق بھی اِسی تنظیم سے تھا۔ اُن کاکہنا تھا کے جِن دو ڈاکوؤں کی ابھی شناخت نہیں ہوئی اُن کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جارہا ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انہیں یہ اطلاعات تھیں کہ کالعدم قرار دی جانے والی جہادی تنظیموں کے کارکن مالی وسائل اکٹھے کرنے کے لیے بینک ڈکیتی اُور رہزنی کی وارداتیں کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ پولیس کو شُبہ ہے کہ ابھی تک شناخت نہ ہونے والے دو ڈاکو جیشِ محمد کے مطلوب دہشت گرد اُسامہ نذیر‘ مطیع الرحمنْ ‘ احسان اللہ یا امجد فاروقی ہوسکتے ہیں۔ امجد فاروقی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشّرف پر کچھ عرصہ قبل ہونے والے خود کُش حملوں میں بھی ملوث ہے ۔ جیشِ محمد مولانا مسعود اظہر نے بھارتی قید سے آزاد ہونے کے بعد پاکستان آ کر منُظم کی تھی۔ بھارتی حکومت کو سن 2000 ء میں مولانا مسعود اظہر کو اُس وقت رہا کرنا پڑا تھا جب انڈین ائیر لائینز کے ایک طیارے کے اغوئیوں نےمسافروں اور عملہ کی زندگیوں کے بدلے اُن کی اُور چند دوسرے جہادی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||