پولیس مقابلہ میں پانچ ڈاکو ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے ضِلع مظفر گڑھ میں ایک پولیس مقابلےمیں پانچ مُبینہ ڈاکوھلاک ہوئے ہیں ۔ تاہم مقابلے میں حصہ لینے والے تمام پولیس اہلکار مکمل طور پر محفوظ رہے ۔ مُشتبہ ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان مڈ بھیڑ اتوار کے روز تحصیل علی پور میں دریائے سندھ کے کنارے واقع مٹھن والی گاؤں میں ہوئی ۔ پولیس حُکام کے مطابق ڈاکوؤں کے بدنامِ زمانہ گِروہ بوسن گینگ کے چند کارندوں نےسیت پور کے علاقہ سے ایک مالدار شخص بشیر لانگ کو تاوان حاصل کرنے کی خاطر اغّوا کیا تھا۔ اغّوا کار مغوی کو کچے کے علاقہ میں واقع اپنے ٹھکانوں کیطرف لے جاتے ہوئے جب مٹھن والی سے گزرے تو پولیس سے سامنا ہو گیا ۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں نے قریب ہی واقع کپاس کے کھیتوں میں گھُس کر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور فائرنگ کا یہ تبادلہ کوئی اڑھائی گھنٹے جاری رہا۔ بعد میں جب اغّواکاروں کیطرف سے فائرنگ کا سلسلہ بند ہو گیا تو پولیس نے اُن کی تلاش شروع کر دی ۔ جلد ہی پانچوں مبیُنہ ڈاکوؤں کی لاشیں کپاس کے کھیت میں پڑی مِل گئیں ۔ ہلاک ہونے والوں کے نام مُرید، نازک، منیر احمد، رزاق اور اصغر معلوم ہوۓ ہیں۔ علی پور کے تحصیل پولیس افسر مرزا امیر کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو مظفر گڑھ ، بہاولپور اور راجن پور اضلاع کی پولیس کو قتل ڈکیتی اور اغّوا براۓ تاوان کی کئی وارداتوں میں مطلوب تھے ۔ بوسن گینگ پچھلے کچھ برسوں سے دریاۓ سندھ کے کچے کے علاقہ میں دہشت کی علامت بن چکا ہے ۔ پنجاب پولیس کے اعلٰیٰ اہلکار متعدد بار اس کے خاتمے کا اعلان کرچکے ہیں اور کئی پولیس مقابلوں میں اس خطرناک گروہ سے مبُینہ طور پر تعلق رکھنے والے افراد ’مارے‘ جا چُکے ہیں۔ لیکن بوسن گینگ کی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||