لاہور میں ڈاکوؤں کا راج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ڈکیتیوں کی وارداتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ شہر میں واقع پنجاب کے سب سے بڑے صنعتی علاقے ٹاؤن شپ کے صنعتکاروں نے حکومت سے کہا ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وہ دو اپریل سے کارخانے بند کر دیں گے۔ انہوں نے لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ڈکیتی کی مختلف وارداتوں میں اب تک دو صنعت کار قتل ہو چکے ہیں اور گزشتہ دسمبر سے لے کر اب تک ڈکیتی کی آٹھ وارداتیں ہو چکی ہیں جن میں لاکھوں روپے لوٹے جا چکے ہیں۔ صنعتکاروں نے یہ بھی کہا کہ بیس مارچ کی صبح ایک گھی مِل میں بارہ ڈاکو داخل ہوۓ تو باہر موجود پولیس انہیں روک نہیں سکی۔ ٹاؤن شپ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اب تک پولیس نے کسی واردات کا سراغ نہیں لگایا اور کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہاں واقع ایک سو بارہ صنعتی یونٹ سالانہ ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی برآمدات کر رہے ہیں۔ اس صنعتی علاقہ میں مجموعی طور پر چار سو صنعتی یونٹ ہیں جن میں چالیس ہزار کارکن کام کرتے ہیں اور حکومت یہاں سے ایک ارب روپے سالانہ سیلز ٹیکس اور ساٹھ کروڑ روپے کے دیگر ٹیکس وصول کرتی ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اتنا ٹیکس دینے کے باوجود وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور پولیس کے پاس ان کی بات سننے کے لیے وقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاؤن شپ انڈسٹریل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین احسن بٹ نے کہا کہ انہوں نے بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں اور قتل کی وارداتوں کے خلاف احتجاج شرو ع کر دیا ہے اور ٹاؤن شپ کے صنعتکاروں نے کالی پٹیاں باندھنی شروع کر دی ہیں۔ ٹاؤن شپ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان کے تحفظ کے انتظامات بہتر بناۓ اور ڈکیتیوں کے ملزمان کو گرفتار کرے ورنہ وہ دو اپریل سے کاروبار بند کر کے ہڑتال پر چلے جائیں گے اور ٹیکس دینا بند کردیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||