BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2003, 20:29 GMT 00:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور قتل، تین گرفتار

لاہور
لاہور میں بدھ کو دو مختلف واقعات میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

لاہور پولیس نے سابق میئر خواجہ ریاض محمود کے بیٹے سمیت تین افراد کے قتل کے شبہ میں محکمۂ انکم ٹیکس کے ڈپٹی کمشنر سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیاہے۔

خواجہ ریاض محمود کے دوسرے بیٹے خواجہ سلمان نے ایف آئی آر میں انہیں نامزد کیا تھا۔

بدھ کو ہونے والی قتل کی اس واردات میں خواجہ ریاض کے پولیس انسپکٹر بیٹے خواجہ رضوان کے ہمراہ ان کے ایک دوست ڈاکٹر شاہد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

لاہور پولیس کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) سٹی کا کہنا ہے کہ قتل کی اس واردات کا بظاہر سارا جھگڑا ہی ڈاکٹر شاہد کا تھا۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر شاہر کے بھائی نوید کی اپنی بیوی سے ناچاقی چل رہی تھی۔وہ چار سال سے اپنے میکے میں تھی۔

پنچائت لگتی تھی تو خواجہ رضوان اپنے دوست کا ساتھ دیتے تھے۔ ان کے ورثا نے پولیس کو بتایا کہ محکمۂ انکم ٹیکس میں ڈپٹی کمشنر محمد علی جو نوید کے سسر ہیں، اور ان کے تاجر دوستوں محمد جمیل اور عبدالوحید نے دھمکی دی تھی کہ اگر نوید نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی تو وہ اسے قتل کرا دیں گے۔

ورثا نے شبہ ظاہر کیا کہ انہی تینوں افراد نے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے یہ تہرا قتل کرایا ہے۔ پولیس نے ایف آئی آر میں تینوں کو نامزد کیے جانے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا۔

ادھر اقبال ٹاؤن میں فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والی لاہور کی مشہور شخصیت نگینہ خانم سمیت آٹھ افراد کے اجتماعی قتل کی واردات کا کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

نگینہ خانم پاکستان کی پہلی پشتو فلم کی ہیروئن تھیں۔ انہوں نے سو سے زائد پشتو فلموں میں اداکاری اور گلو کاری کی تھی اور درجنوں اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا تھا۔

پولیس اب ان کے بچ جانے والے دونوں بیٹوں علی اور نواز خان سے تفتیش کرررہی ہے۔

پولیس کے مطابق ایک بیٹا علی تو واردات کے وقت گھر کی بالائی منزل پر سو رہا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ بات بڑی حیرت انگیز ہے کہ گھر میں آٹھ افراد کو ہاتھ باندھ کر قتل کر دیا گیا اور بالائی منزل پر سوتے ہوئے علی کو علم ہی نہ ہو سکا۔

دوسرا بیٹا نواز خان ماں سے جھگڑ کر علیحدگی اختیار کرچکا تھا اور اس کا جائیدادا کا تنازعہ چل رہا تھا۔

اس واردات کے ایک اور مقتول ڈرائیور حیات کی بیوی شمع کائنات کو بھی پولیس نے شامل تفیش کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق وہ واردات کے بعد غائب تھی اور اس کو چھاپہ مار کے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس خاتون سے ڈرائیور حیات نے اس کے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی اور اس کے والدین یہ الزام عائد کرتے تھے کہ وہ جس گھر میں رہتی ہے وہاں کے حالات نامناسب ہیں جس سے ان کی عزت پر حرف آتا ہے۔

پولیس اس کے علاوہ ڈکیتی اور دہشت گردی جیسے پہلوؤں پر بھی غور کر رہی ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس گھر کے آٹھوں مقتولین کو یا تو ان کے چہروں پر گولی ماری گئی یا پھر کنپٹی پر۔ تمام مقتولین کی لاشیں ایک ہی کمرے میں پڑی تھیں چند ایک کے ہاتھ عقب میں باندھے گئے تھے۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن چودھری شفقات احمد نے کہا ہے کہ یہ ایک سے زائد افراد کا کام لگتا ہے۔

اب تک کی صورتحال سے نظر آتا ہے کہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے ان گیارہ افراد کے قتل کی تفتیش،اصل ملزموں کی گرفتاری تک ان کے رشتہ دار ہی بھگتیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد