کراچی: پانچ پولیس والے ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں تھانے پر فائرنگ کرکے پانچ پولیس والوں کو ہلاک کرنے والے ملزمان کے خاکے پیر کو جاری کیے جائیں گے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے واردات میں استعمال ہونے والی ایک کار بھی مل گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کراچی میں گلستانِِ جوہر کے تھانے پر اتوار کی صبح چند نامعلوم افراد نے حملہ کر کے پانچ پولیس والوں کو ہلاک کر دیا تھا اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اطلاعات کے مطابق زخمی پولیس والے کی جوابی فائرنگ میں ایک حملہ آور ہلاک یا زخمی بھی ہوا ہے تاہم علاقے سے کوئی لاش نہیں ملی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے کراچی پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز طارق جمیل کے حوالے سے بتایا ہے زخمی کانسٹیبل اور حوالات میں بند دو ڈاکوؤں کی مدد سے ملزمان کے خاکے تیار کیے جا رہے ہیں جو پیر کے روز شائع کر دیئے جائیں گے۔ طارق جمیل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی میں کوئی ایسا ہی گروہ ملوث ہو سکتا ہے جس نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔ طارق جمیل نے حملہ آوروں کو جنونی دہشت گرد قرار دیا۔ ادریس بختیار نے بتایا کہ ملیر کے علاقے سے ایک مہران کار ملی ہے جس پر گولی کا نشان بھی ہے۔ یہ کار گزشتہ رات کو چھینی گئی تھی۔ یہ حملہ اتوار کی صبح ساڑھے چار بجے کے قریب کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں تین چار گاڑیاں استعمال کی گئیں اور حملے میں کئی لوگوں نے حصہ لیا۔ فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، کافی دیر کے بعد دوسرے تھانوں سے پولیس وہاں پہنچی اور مرنے والوں کی نعشیں اٹھائیں اور زخمی کو اسپتال پہنچایا۔ گزشتہ دنوں میں شہر میں سکیورٹی اہلکاروں پر اور بھی حملے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||