سندھ کے وزیر برطرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعلی سندھ ارباب غلام رحیم نے صوبائی وزیر ریوِنیو امتیاز شیخ کو بدعنوانی کے الزامات کے بعد برطرف کر دیا ہے۔ ایک نجی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی خبر کے مطابق ان پر زمینوں پر قبضہ کرنے کے الزامات تھے جبکہ ان کے محکمہ میں بھی کئی بدعنوانیاں پائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وزیراعلی غلام رحیم نے انہیں گزشتہ سال جولائی میں اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا اور ریوِنیو کے علاوہ سیاسی امور کا قلمدان بھی انہیں سونپا گیا تھا۔ امتیاز شیخ حکمراں مسلم لیگ (ق) کے صوبائی سیکرٹری جنرل ہیں جبکہ ارباب غلام رحیم صوبائی سربراہ ہیں۔
ادھر رات گئے امتیاز شیخ کے افسر تعلقات عامہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان الزامات کی تردید کی گئی ہے اور وزیراعلی پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی ذاتی رنجش کی بنا پر کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کرپشن کی نشاندہی وزیراعلی ہاؤس اور لینڈ یوٹیلائزیشن کے محکمہ میں کی گئی تھی جس کے بعد یہ انتقامی کارروائی کی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب امتیاز شیخ نے سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے تنظیم بنائی تو اس میں پیپلزپارٹی مخالف عناصر کو جمع کیا تھا اور ارباب غلام رحیم بھی اس میں شامل تھے۔ لیکن بعد میں وزارت اعلی کے حصول کے لیے رسہ کشی شروع ہوگئی جسے اسلام آباد کے حکمرانوں نے بظاہر یوں ختم کیا کہ گزشتہ سال انہیں مسلم لیگ (ق) کا صوبائی جنرل سیکرٹری اور صوبائی وزیر بنا دیا گیا۔ اس مرحلے پر ان کی اپنی جماعت سندھ ڈیموکریٹ الائنس مسلم لیگ میں ضم ہوگئی۔ امتیاز شیخ کو 2002 کے عام انتخابات میں ضلع جیکب آباد سے شکست ہوگئی تھی تاہم بعد میں وہ کشمور میں خالی ہونے والی ایک صوبائی نشست پر منتخب ہوگئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||