ہائیکورٹ مداخلت کی مجاز نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوج کے جرنیلوں کو الاٹ کی گئی زمینوں کو منسوخ کرنے کی ایک رٹ درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں فوج کی قانونی برانچ ’جیگ‘ نے منگل کے روز اپنے جواب میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے (تین) کے تحت ہائی کورٹ مسلح افواج اور ان سے وابستہ افراد کے معاملات میں مداخلت کی مجاز نہیں۔ اس جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمینوں کی یہ الاٹمنٹ قوانین، پالیسی، قواعد و ضوابط اور میرٹ کے مطابق کی گئی اور فوجیوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی قسم کی غیرقانونی مراعات نہیں دی جاتیں۔ انہیں وہی مراعات ملتی ہیں جو قانون کے تحت منظور شدہ ہوتی ہیں۔ جواب میں درخواست کی گئی تھی کہ اس رٹ درخواست کو مسترد کیا جائے۔ عدالت عالیہ نے اب درخواست گزار کو جوابالجواب دائر کرنے کے لیے کہا ہے۔ درخواست گزار ایم ڈی طاہر نے درخواست میں کہا تھا کہ صوبہ کے مختلف حصوں میں سابق اور حاضر جرنیلوں کو تین سو اسی روپے فی ایکڑ کے حساب سے زمین الاٹ کی گئی جبکہ ان لوگوں نے ایسا کوئی کارنامہ بھی انجام نہیں دیا تھا جس کی بنیاد پر انہیں ایسے کسی انعام سے نوازا جائے۔ اس لیے ان الاٹمنٹوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔ گزشتہ سال جولائی میں بھی لاہور ہائی کورٹ میں فوج کے جرنیلوں کے احتساب پر ایک رٹ دائر درخواست کی گئی تھی جسے عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی جرنیلوں پر مقدمہ چلانا عدالت عالیہ کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ پاکستان لائیرز فورم نے اراضی کی الاٹمنٹ اور ماوراۓ آئین اقدامات کی بنیاد پر جنرل پرویز مشرف اور پاک فوج کےمتعدد حاضر سروس اور سابق فوجی افسروں کے خلاف نیب آرڈیننس اور آرمی ایکٹ کے تحت کاروائی کرنے کی درخواست کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف سمیت ایک سو گیارہ جرنیلوں نے بہاولپور اور رحیم یار خان میں چار سو پلاٹ ساڑھے سینتالیس روپے فی کنال کے عوض حاصل کیے جبکہ مارکیٹ میں ان کی قیمت پندرہ ہزار روپے سے بیس ہزار روپے فی کنال ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نےقرار دیا تھا کہ ہائی کورٹ آفس اور سنگل بینچ کا اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض درست ہے۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ کہ یہ حکم دینا کہ اگر جرنیلوں کے اثاثے ان کی آمدن سے زیادہ ہیں تو ان پر نیب مقدمہ چلاۓ ، عدالت عالیہ کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اس سے پہلے جون دو ہزار تین میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ایک رٹ درخواست کے جواب میں پنجاب کے بورڈ آف ریونیو نے یہ معلومات فراہم کی تھیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور جنرل عزیز خان سمیت فوج کے باسٹھ حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیلوں کو صوبہ میں زرعی اراضی الاٹ کی گئی جس کی قیمت ایک ہزار روپے فی ایکڑ سے کم لی گئی۔ بورڈ آف ریونیو نے بتایا تھا کہ پنجاب میں چولستان (بہاولپور) اور دوسرے علاقوں میں سنہ انیس سو اکیاسی سے لے کر سنہ دو ہزار تین تک چار مرتبہ زرعی اراضی الاٹ کی گئی۔ بورڈ کے مطابق اس کا ڈپٹی کلکٹر فوج کے نامزد کیے گئے افسروں کو الاٹمنٹ کا لیٹر جاری کرتا ہے جبکہ ان افسروں کے نام اور ان کو دیے جانے والے رقبے کا تعین جی ایچ کیو کرتا ہے۔ بورڈ کے مطابق یہ زمین آرمی ویلفئیر سکیم کے تحت الاٹ کی جاتی ہے۔ گزشتہ سال قومی اسمبلی میں صدر جنرل پرویزمشرف اور فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈایریکٹر جنرلوں کے زرعی پلاٹوں کی خرید وفروخت کا معاملہ اٹھایا گیا تھا جس میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ صدر مشرف نے سال دو ہزار تین میں اسلام آباد کے نواح میں ایک پانچ ایکڑ کا زرعی پلاٹ خریدا جبکہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے ڈھائی ڈھائی ایکڑ کے دو پلاٹ بیچے۔ قومی اسمبلی میں ان پلاٹو ں کی قیمت نہیں بتائی گئی تھی تاہم مارکیٹ میں صدر مشرف کے پلاٹ کی قیمت پانچ کروڑ روپے اور آئی ایس آیی کےجنرل کے دو پلاٹوں کی قیمت دس کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔ حکمران جماعت اور حزب مخالف دونوں کے ارکان نے جنرل مشرف کےنام زرعی اراضی کا انتقال اور ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف سے پلاٹ منتقل کرانے کے معاملہ پر تنقید کی تھی۔ قومی اسمبلی کے ایک اور اجلاس میں گزتشہ سال یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پاک فوج کو برف کےکارخانوں، پٹرول پمپوں ، بیکریوں، جنرل سٹوروں، سینما گھروں اور دکانیں اور زرعی زمینیں کرائے پر دینے سے ہر سال قریبا ستائیس کروڑ روپے آمدن ہوتی ہے۔ دفاعی امور کے لیے پارلیمانی امور کے سیکٹری میجر (ر) تنویر حسین نے قومی اسمبلی کو زمینوں پر فوج کی کاروباری سرگرمیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں فوج کی ان زمینوں پر بائیس پٹرول پمپ ، تینتیس جنرل سٹور، گیارہ بیکریاں، سات برف کےکارخانے، تین سینما گھر اور زرعی زمینیں ہیں جن سے دس کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن ہوتی ہے۔ صوبہ سرحد میں افواج پاکستان کو دس پٹرول پمپوں، تیرہ جنرل سٹورز، چار بیکریوں اور چار سینما گھروں سے تقریبا ایک کروڑ نوے لاکھ روپے کی سالانہ آمدن ہے۔ سندھ میں چار پٹرول پمپوں، ایک بیکری، تین برف کے کارخانوں، چار جنرل سٹورز اور زرعی زمینوں کے آّٹھ رقبوں سے ایک کروڑ چوبیس لاکھ روپے سالانہ آمدن ہوتی ہے۔ بلوچستان میں افواج پاکستان کو دو پٹرول پمپوں ، دو جنرل اسٹوروں اور زرعی زمین کے ایک رقبہ سے تیرہ کروڑ چھتیس لاکھ روپے سالانہ آمدن ہوتی ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ ان کاروباری سرگرمیوں سے حاصل کی گئی رقم وفاقی محصول میں جمع نہیں کرائی جاتی بلکہ براہ راست فوج استعمال کرتی ہے اور انھیں فوج کے سالانہ دفاعی اخراجات میں شامل نہیں کیا جاتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||