’ہمارے گھر مت گراؤ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان کینٹ کے دو ہزار سے زائد مکینوں نے صدر جنرل پرویز مشّرف کو پیر کے روز سینکڑوں پوسٹ کارڈ ارسال کیے ہیں جِن کے مکانات کے بعض حصوں کو تجاوزات قرار دے کر کنٹونمنٹ بورڈ نے گرِانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ یکم فروری سے کینٹ کے رہائشی علاقے میں مُبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کررہا ہے۔ اِس سلسلے میں مکانات کے ناجائز قرار دیۓ گۓ حصوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے جبکہ مکینوں کو اس سلسلے میں نوٹس بھی جاری کر دیۓ گۓ ہیں ۔ تجاوزات کے خلاف مہم میں کینٹ کے علاقے لال کُرتی اور اِس سے ملحقہ ایسے رہائشی علاقے زد میں آرہے ہیں جِن میں رہنے والے لوگ کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اِن میں سے اکثریت اُن خاندانوں کی ہے جو تقسیمِ ہند کے وقت ہجرت کرکے اِس علاقے میں آئے تھے ۔ تب اِن لوگوں کو حکومتِ پاکستان نے ایک ایک دو دو مرلے کے مکان الاٹ کیے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افرادِ خانہ میں اضافہ ہوا اور یوں رہائش کے لیے مزید جگہ کی ضرورت بھی بڑھی۔ اس وقت اِن علاقوں میں بعض ایسے خاندان بھی ہیں جو بیس سے تیس افراد پر مشتمل ہیں اور دو کمروں کے مکان میں مشترکہ طور پر رہ ہے ہیں ۔ کُل دو سو چار مکانوں کو تجاوزات گرانے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ اِن تمام گھروں کے کُل مِلا کے تین سو اُنیس کمرے بنتے ہیں اور اِن میں دو ہزار دس افراد رہائش پذیر ہیں ۔ تجاوزات گرانے کے نوٹس پانے والے اکثر خاندانوں نے اضافی زمین پر غسلخانے یا باورچی خانے بنا رکھے ہیں ۔ صدر مشّرف کو پوسٹ کارڈوں کے ذریعے ملتان کینٹ کے رہائشی علاقے میں تجاوزات کے خلاف کارروائی رکوانے کی کی مہم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے چلائی تھی ۔ بہت سے کارڈ بچوں نے لکھے ہیں جن میں اُنہوں نے کارروائی کے ڈر سے پڑھائی متاثر ہونے کا ذ کر کیا ہے جبکہ بعض بچوں نے سوال کیا ہے کہ فوجی ان کے مکان کیوں گرارہے ہیں ۔ایک بچے نے پوسٹ کارڈ پر ہاتھ سے تصویر بنائی ہے جس میں اُس کے گھر پر بمباری ہوتے دکھائی گئی ہے ۔ کمیشن کی ملتان ٹاسک فورس کے کوآرڈینیٹر ایڈووکیٹ راشد رحٰمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنیس سو چوبیس کے کنٹونمنٹ بورڈز ایکٹ کے تحت کسی بھی غیر قانونی تعمیر کے خلاف دو ماہ کے اندر نوٹس دیا جانا ضروری تھا لیکن لال کُرتی اور اِس کے اردگرد کے علاقوں کے رہائشیوں کو اِس سے قبل گزشتہ پچاس برسوس میں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ کینٹ میں لائیبریری کے لیے مختص زمین پر پلازہ، کھیلنے کے میدان پر ریڈیو سٹیشن اور گرین بیلٹ اور بیت الخلاء کی جگہ پر دوکانیں تعمیر کرا دی گئی ہیں لیکن عام لوگوں کی طرف سے محض سہولت کے لیے کی جانے والی معمولی تجاوزات گرانے کے خلاف آپریشن کیا جارہا ہے ۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتظامی افسر حامد ہارون کا کہنا تھا کہ کسی غیر قانونی عمل کو مثال بنا کر مزید غیر قانونی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اُن کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے اِس سے قبل نوٹس نہ دینےمیں سُستی کو جواز بنا کر تجاوزات قائم رکھنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||