مسائل: بندوق نہیں مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کی پنجاب شاخ کے زیرِاہتمام بُدھ کو ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس نے بلوچستان میں کسی بھی ممکنہ آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق چھوٹے صوبوں کے ساتھ مسائل کو مذاکرات اور افہام وتفہیم سے حل کرے نا کہ بندوق کے ذریعے ۔ کانفرنس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جنرل پرویز مشّرف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بلوچ رہنماؤں کے خلاف جو تضحیک آمیز باتیں کہی تھیں وہ ان کے لیے عوام سے معافی مانگیں ۔ کُل جماعتی کانفرنس میں اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت، متحدہ مجلسِ عمل اور قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم میں شامل بیشتر جماعتوں کے علاوہ کئی دوسری سیاسی تنظیموں کے مندوبیں بھی شریک تھے جن میں متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان سرائیکی پارٹی قابلِ ذکر ہیں ۔ کانفرنس سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بُگٹی نےالزام لگایا کہ حکومت ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ سوئی میں ہونے والے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کے خلاف ہونے والے احتجاج کو جواز بنا کر بلوچستان میں فوجی آپریشن کرنا چا رہی ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ سوئی میں گیس پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا البتہ گیس پائپ لائن کچھ متاثر ہوئی تھی لیکن حکام جان بوجھ کر گیس کی فراہمی بحال کرنے کے کام میں دیر کررہے ہیں تاکہ باقی مُلک کی عوام کو بدزن کیا جا سکے اور یہ تاثر دیا جا سکے کہ بلوچوں کو اُن کے مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے۔ نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ گیس تنصیبات بلوچ قوم کی ملکیت ہیں اِس لیے وہ انہیں کیونکر نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فوج کی ایک پوری ڈویژن بمعہ بھاری اسلحہ سوئی کے قریب سندھ کے علاقے کشمور میں پہنچ چُکی ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت مکھی کو دس ٹن کے ہتھوڑے سے مارنا چارہی ہے۔ کانفرنس سے سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخرامام، سابق وفاقی وزیر مختار احمد اعوان، تاج محمد لنگاہ، نوابزادہ منصور احمد خان اور مرغوب کھتران نے بھی خطاب کیا ۔ یہ کانفرنس بلوچستان کے حالیہ بحُران کے حوالے غوروخوض کے لیے کسی دوسرے صوبے میں ہونے والی پہلی کوشش تھی ۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||