سوئی میں حالات کشیدہ: مینگل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطاءاللہ مینگل نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان باالخصوص سوئی کے علاقے میں فوج پہنچ گئی ہے اور حالات کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اتوار کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سن ستر میں جب بلوچوں کے خلاف فوجی کارروائی ہوئی تھی اس کی نسبت اب بلوچ اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کے لیے زیادہ منظم اور مضبوط ہیں۔ سردار مینگل نے الزام لگایا کہ ’بلوچوں کو ختم کرنے کا اعلان فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا ہے۔ بلوچ کمزور ضرور ہیں لیکن جھکنا ان کی تاریخ بھی نہیں ہے۔‘ انہوں نے اپنے حقوق کے لیے آخر دم تک لڑنے کا اعلان بھی کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی لڑائی فتح کی نہیں ہوگی۔ انہوں نے حال ہی میں سوئی کے علاقے میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ طور پر ایک فوجی ایجنسی کے کیپٹن کا ساتھیوں کی مدد سے ’اجتماعی زنابالجبر‘ کے واقعے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا مقدمہ درج ہونے کے بعد بھی متعلقہ افسر گرفتار نہیں ہوئے اور ایک نجی ٹی وی چینل پر آکر خود کو بے گناہ بھی قرار دے دیا ہے۔ سرادر عطاءاللہ خان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ فوجی ’اہل بیت ہیں کیونکہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق جب زنابالجبر کے مقدمے میں انصاف نہیں ملتا تو حقوق کیا ملیں گے۔‘ انہوں نے مک کی فوج کو سرکار کی فوج قرار دیتے ہوئے اس پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج دشمن ممالک سے نہیں لڑ سکتی البتہ اپنے شہریوں کو فتح کرسکتی ہے، چاہے وہ بنگالی ہوں یا بلوچ۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ خاتون ڈاکٹر سندھی ہیں اور کسی سندھی لیڈر نے کوئی مذمتی بیان بھی نہیں دیا۔ سردار مینگل نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین کا بلوچستان میں فوجی کارروائی کی مخالفت کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے بنائی گئی پارلیمان کی کمیٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ بے اختیار تھی۔ ان کے مطابق جب انہوں نے فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کا منصوبہ ترک کرنے، صوبے کے قدرتی وسائل پر صوبے کا حق تسلیم کرنے، گوادر میں غیر بلوچوں کو زمینوں کی الاٹمینٹ منسوخ کرنے اور صوبے کو مالی خودمختاری دینے کے سمیت دس نکاتی مطالبات کمیٹی کو پیش کیے تو ’کمیٹی نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کریں‘۔ ایسی صورتحال کے بعد سردار مینگل نے بتایا کہ وہ کمیٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گن شپ ہیلی کاپٹر اور توپوں سے مسلح فوج سوئی میں تلاشی کے نام پر خواتین کی بے حرمتی کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچیس ہزار لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ سردار عطاءاللہ مینگل نے اس موقع پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تینتیس ہزار سے زیادہ ایف سی جسے ملیشیا بھی کہتے ہیں، اس فورس میں بلوچوں کی تعداد محض تین سو ہے جبکہ ساٹھ فیصد صوبہ سرحد کے پٹھان،گیارہ فیصد پنجابی، بیس فیصد بلوچستان کے پٹھان اور دیگر، جبکہ نو فیصد بلوچستان کے دیگر باہر کے لوگ ہیں۔ انہوں نے کوسٹ گارڈز فورس کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ساحلی علاقہ بلوچستان اور سندھ صوبوں میں ہے لیکن باسٹھ فیصد ملازم پنجاب کے لوگ ہیں۔ جبکہ ان کے مطابق اس فورس میں انیس فیصد سندھ، سولہ فیصد سرحد اور تین فیصد بلوچستان کے ملازم ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||