بلوچوں کی ’جنگ‘ جائز ہے: جمالی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے صوبہ بلوچستان میں پرتشدد کاروائیوں کے متعلق کہا ہے کہ وہ آزادی کی تحریک نہیں بلکہ حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے جو کہ ہونی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کراچی میں پیر پگاڑا سے ملاقات کے بعد صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ سابق وزیراعظم نے بلوچوں کی پرتشدد کارروائیوں کو ایک لحاظ سے جائز قرار دیتے ہوئے اسے حقوق کی جدوجہد قرار دیا ہے۔ سیاسی حلقے ان کے اس بیان کو خاصی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ شاید یہ اتفاق ہی ہوگا کہ سابق وزیراعظم جمالی نے جس روز یہ بیان دیا ہے اسی دن صدر مملکت جنرل پرویز مشرف کا ایک نجی ٹی وی نے انٹرویو نشر کیا ہے جس میں انہوں نے بلوچستان میں گڑ بڑ پھیلانے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ باز آجائیں ورنہ ان کا انجام بہت برا ہوگا۔ میر ظفراللہ جمالی سے جب پوچھا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی نامی تنظیم کی پرتشدد کارروائیوں کو وہ کیسے دیکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اسلحہ اٹھانا آخری حربہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب حکومت نے صوبے کے مسائل حل کرنے کے لیے کمیٹی بنائی ہے اور دوسری جانب لوگوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ سابق وزیراعظم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بلوچوں کے ساتھ ناانصافیاں ختم کرکے انہیں انصاف اور حقوق دے۔ تاہم انہوں نے حقوق کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ بلوچستان میں تشدد آمیز کارروائیوں کو حکومت تخریب کاری قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث لوگوں کو صوبے میں ترقی کا دشمن کہتی رہی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی نامی تنظیم کوئٹہ، سئی، تربت اور گوادر سمیت مختلف شہروں میں کئی بم دھماکوں اور پرتشدد کارروائیوں جس میں چینی انجنیئرز بھی ہلاک ہوچکے ہیں، صوبے کے حقوق کی خاطر پرتشدد کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔ بلوچستان نیشنل آرمی نامی پراسرار تنطیم کی پرتشدد کارروائیوں کی حکومت مذمت کرتی رہی ہے۔ لیکن بلوچستان کے سردار اور قوم پرست رہنما جن میں نواب اکبر خان بگٹی، سردار عطاءاللہ مینگل، محمود خان اچکزئی اور سردار خیر بخش مری بھی شامل ہیں وہ متعلقہ لوگوں اور ان کی کارروائیوں کو غلط نہیں کہتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||