جمالی سیکرٹری جنرل نہیں بنینگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران پارٹی مسلم لیگ (ق) کے ایک خصوصی اجلاس میں پارٹی عہدوں کی تقسیم سے پر سینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں اور متعدد اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کو پارٹی کے سیکرٹری جنرل بناۓ جانے کی تجویز پر اعتراضات کیے ہیں۔ اجلاس میں ایک قراداد میں چودھری شجاعت حسین کو مسلم لیگ کے دیگر دھڑوں سے اتحاد اور پارٹی کے عہدوں کی تقسیم کے مکمل اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ یہ خصوصی اجلاس چودھری شجاعت حسین کے گھر پر منعقد ہواتھااور اجلاس سے قبل متعدد شرکاء نے اس بات کااظہار کیا کہ انہیں اس کے ایجنڈے کا علم نہیں ہے۔ اجلاس میں چودھری شجاعت کی اجازت سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو براہ راست اجلاس کی کارروائی سننے کے لیے بلایا گیاتھا۔ اجلاس میں مسلم لیگ(ق) سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹروں ، وزراء اور مجلس عاملہ کے اراکین نے شرکت کی۔ تاہم وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس میں چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی پر یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کے لیے پارٹی کا سیکریٹری جنرل بننا ممکن نہیں ہے انہوں نے وزیر اعلی علی محمد مہر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ انہوں نے جمالی پر واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ سیکریٹری جنرل ہوں گے تو لوگ صدر (چودھری شجاعت حسین ) کی بات نہیں سنیں گے بلکہ صرف وزیراعظم کی بات سنیں گے اور بقول ان کے یہ ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ علی محمد مہر نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود ہی جلسہ کرکے پریس کانفرنس میں اعلان کر دیا کہ انہیں صوبائی صدر بنا دیا گیا ہے انہوں نے کہا وہ واضح کرنا چاہتےہیں کہ انہیں صوبائی صدر نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے پیر پگارا کی فنکشنل مسلم لیگ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی جانب سے مطالبات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اجلاس میں کئی دیگر اراکین نے وزیر اعظم جمالی پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے کام نہیں ہوتے بلکہ ان لوگوں کے کام ہو رہے ہیں جن کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چودھری نذیر نے کہا کہ ’ہماری سیاسی جماعت بڑی پارٹی ہے اور دیگر کو اس میں شامل کرنا چاہیے نہ کہ ہماری پارٹی کو ان میں ضم کر دیا جاۓ۔انہوں نے کہ انہوں نے متعدد بار وزیر اعظم سے ملنے کی کوشش کی لیکن انہیں نہیں ملنے دیا گیا۔ اسحاق خاکوانی نے کہا کہ ’جمالی کو وزیر اعظم بنا کر ایک غلطی ہو چکی ہے اب انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل کا عہدہ دیکر دوسری غطی نہ کی جاۓ۔‘ وصی ظفر نے کہا کہ’ پیٹریاٹ والوں کو عہدے بھی ملے اور ان کے کام بھی ہو رہے ہیں جبکہ پارٹی کے اراکین برے حالات سے دوچار ہیں۔‘ وزیراعظم کو سیکرٹری جنرل بناۓ جانے کے فیصلہ اور مسلم لیگوں کے ادغام پر متعدد اراکین نے تنقید کی اور کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ادغام کے نتیجہ میں تمام عہدے دوسری پارٹی کے اراکین لے جائیں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ انہیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ پارٹی کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جاۓگی۔تاہم انہوں نے پارٹی میں اتحاد قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اجلاس میں چودھری شجاعت حسین نے مسلم لیگ کے دیگر دھڑوں کے مطالبات کے بارے میں بتایا انہوں نے بتایا کہ اعجاز الحق، حامد ناصر چٹھ،اور منظور احمد وٹو نے ادغام کے لیے کوئی شرائط پیش نہیں کیں بلکہ صرف اپنی اپنی پارٹی کے ممبران کی بہتر ایڈجسمنٹ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پیر پگارو نے مرکز سندھ اور پنجاب میں اہم عہدوں کو فنکشنل لیگ کو دیے جانے سے اتحاد کو مشروط کیا ہے۔ اجلاس میں متعدد شرکاء نے پیر پگارو کی عہدوں کے مطالبے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے اتحاد نہ کیے جائیں جس سے پارٹی پر دوسرے قبضہ کرلیں۔ وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ انہیں خود وزیراعظم بننے کا شوق نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پر تنقید کرنا پارٹی کے اراکین کا حق ہے اور انہیں اس تنقید پر برا نہیں منانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اعلٰی پارٹی کے اراکین ان پربھی تنقید کرتے ہیں اور وہ اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا کہ وہ حکومت کے نمائندہ ہیں اور جمالی ان کے کپتان ہیں جبکہ شجاعت ان کے پارٹی صدر ہیں اور وہ دونوں کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ یہ موقع اختلافات کا نہیں ہے بلکہ اتحاد کا ہے انہوں نے کہا کہ خدا کے لیے بارودی سرنگوں پر قدم نہ رکھیں آئندہ چند ماہ میں بین الاقوامی اور قومی سطح پر ہمیں بہت سے ایسے اہم مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے اراکین اگر ہمارے ساتھ شامل نہ ہوتے تو پھر ہمیں حکومت بھی نہ ملتی۔ انہوں نے اجلاس کی کارروائی میڈیا کے سامنے ہونے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ابھی ہم بند گلی میں کھڑے ہیں اور اور تمام صورتحال واضح نہیں ہیں اس لیے پارٹیوں کے گندہ کپڑے میڈیا کے سامنے نہیں کھولنے چاہیے۔ مبصرین کے مطابق یہ اجلاس اس لیے اہم ہے کہ اس میں پہلی بار پارٹی اختلافات کھل کر سامنے آۓ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||