خواجہ رفیق: خفیہ پریس کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ شہباز شریف کے وطن لوٹنے کی خبروں کے بعد پولیس نے لیگی کارکنوں کی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری خواجہ سعد رفیق کو اپنی پریس کانفرنس کو خفیہ رکھنا پڑا۔ خواجہ رفیق نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ چھپ چھپا کر ہوٹل پہنچیں ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے مقام کے بارے میں صحافیوں کو بھی آخری وقت لا علم رکھا گیا تھااور محض چند صحافیوں کو پریس کلب لاہور پر بلایا گیا تھا جہاں سے سیکرٹری اطلاعا ت زعیم القادری انہیں اپنے ساتھ لیکر آواری ہوٹل پہنچے۔ خواجہ سعد نے کہا ہے کہ ملک کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہےاور اب تک مسلم لیگ(ن) کے ایک ہزار سے زیادہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا گیارہ مئی کا جلوس پرامن ہوگااور وہ قومی املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے تاہم انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ ان کے جلاوطن لیڈر شہباز شریف کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ وہ غریب سرکاری ملازمین سے نہیں الجھنا چاہتے لیکن جو پولیس افسران اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں اور مسلم لیگیوں سے بدسلوکی کر رہے ہیں ان کی فہرستیں بھی بنائی جا رہی ہیں اور انہیں ان کے کیے کی سزا بھی ملے گی۔انہوں نے کہاکہ ریاستی طاقت سے شہباز شریف کا استقبال نہیں روکا جاسکتا۔ ادھر مسلم لیگ کے نائب صدر پیر بنیا مین رضوی کے مطابق صوبہ بھر میں چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا ۔پولیس نے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ کے گھر متعدد بار چھاپہ مارا لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ سنیچر کی صبح درجنوں گرفتار شدہ مسلم لیگیوں کو ہتھکڑیوں سمیت ضلعی عدالتوں میں پیش کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||