BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 May, 2004, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وطن واپسی ہرشہری کا حق ہے‘

پاکستان کی عدالت عظمیٰ
پاکستان کی عدالت عظمیٰ
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جمعہ کے روز کہا کہ مسلم لیگ (نواز) کے صدر شہباز شریف پاکستان کے شہری ہیں اور پاکستان میں آنا اور رہنا اُن کا آئینی حق ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ ایک طے شدہ قانونی حقیقت ہے کہ ملک میں داخل ہونے کے کسی شہری کے حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا البتہ کسی شہری کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے جمعہ کے روز شہباز شریف کی وطن واپسی کے متعلق درخواستوں پر اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستانی آئین کا آرٹیکل پندرہ ہر شہری کو ملک میں داخل ہونے کا، آزادانہ گھومنے پھرنے اور ملک کے کسی بھی حصے میں رہائش اختیار کرنے کا حق دیتا ہے۔ اس بات کی نہ ہی اٹارنی جنرل نے اور نہ ہی ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے مخالفت کی۔

شہباز شریف نے دو مختلف درخواستیں سپریم کورٹ میں داخل کی تھیں جِن میں سے ایک میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں وطن واپس آنے سے روکا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ثبوت کے طور پر انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف، وزیر داخلہ فیصل صالح حیات اور دیگر حکام سے منسوب اخباری بیانات کے تراشے عدالت میں پیش کئے تھے۔

شہباز شریف کی آمد کی تیاریاں
سیاسی داؤ پیچ کے بیچ روز مرہ کی جستجو جاری
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ اخباری تراشوں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بسا اوقات اخباری بیانات محض سیاسی مقاصد کے لئے بھی دیئے جاتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اس کے سامنے کوئی ایسی دستاویز پیش نہیں کی گئی جس سے ثابت ہو کہ درخواست گزار کو وطن آنے سے روکا گیا ہے اور نہ ہی وفاقِ پاکستان اور دیگر مدعا علیہان کے وکلاء نے ان کے وطن واپس آنے کے حق کی مخالفت کی ہے، بلکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے تو کہا تھا کہ حکومت درخواست گزار کو دعوت نامہ نہیں بھیج سکتی، لہٰذا عدالت ان کی درخواست مسترد کرتی ہے۔

شہباز شریف کی دوسری درخواست انہیں قتل کے ایک مقدمے میں مفرور قرار دیئے جانے کے خلاف تھی ، جس کے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی حکم میں کہنا ہے کہ درخواست گزار نے ان کی وطن واپسی کے خلاف کسی حکم کی عدم موجودگی کے باوجود اس ضمن میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں لئے لہٰذا اس معاملے پر مزید غور کرنا بے کار ہوگا۔

آرٹیکل پندرہ
 پاکستانی آئین کا آرٹیکل پندرہ ہر شہری کو ملک میں داخل ہونے کا، آزادانہ گھومنے پھرنے اور ملک کے کسی بھی حصے میں رہائش اختیار کرنے کا حق دیتا ہے۔
عدالت عظمیٰ
تاہم عدالت کا کہنا ہے کہ کسی مقدمے میں مفرور کو بھی گرفتاری کے بعد ٹرائل کا حق ہوتا ہے اور کوئی ان سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔ عدالت نے کہا کہ مذکورہ مقدمے میں تو خود درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کا مؤکل وطن واپس آکر داخل مقدمات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں اور وہ اگر گرفتار بھی کئے گئے تو انہیں اعتراض نہیں ہوگا، لہٰذا وہ اس حق سے استفادہ کرسکتے ہیں اور انکی درخواست خارج کی جاتی ہے۔

واضع رہے کہ شہباز شریف کی دونوں درخواستوں پرسماعت مکمل کرتے ہوئے سات اپریل کو سپریم کورٹ نے مختصر حکم سنایا تھا اور تفصیلی حکم بعد میں جاری کرنے کا کہا تھا۔

عدالت کے اِس حکم کے بعد شہباز شریف نے گیارہ مئی کو لاہور پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی متوقع آمد پر ان کی جماعت ان کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد