شہباز شریف: واپسی پر شکوک و شبہات؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما شہباز شریف کی واپسی کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ’ کیا وہ آئیں گے بھی یا نہیں؟‘ شہباز شریف کی واپسی پر جہاں ان کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں وہاں بعض سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف واپسی کا اعلان کرکے پھنس گئے ہیں۔ کیوں کہ اگر وہ پاکستان آئے تو انہیں جیل جانا ہوگا یا پھر جدہ۔ مسلم لیگی رہنما کے جیل یا جدہ جانے کا فیصلہ تو حکومت پاکستان نے کرنا ہے جو بظاہر اب تک اس معاملے پر خاصی پُرسکون دکھائی دیتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو یقین ہے کہ شہباز شریف آئیں گے ہی نہیں۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ شہباز کی واپسی کے حوالے سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے بعد انہیں آنا تو پڑے گا ہی ورنہ سیاسی طور پر ان کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی اور یہ تاثر بھی قائم ہوگا کہ وہ جیل سے ڈر گئے ہیں۔ دسمبر سن دوہزار میں اچانک سابق وزیراعظم میاں نواز شریف تمام اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب چلے گئے تھے ۔ ان کے جانے کے متعلق حکومت دعویٰ کرتی رہی ہے کہ شریف خاندان ایک ڈیل یا سمجھوتے کے نتیجہ میں ملک چھوڑ گیا ہے اور دس سال تک وطن نہیں آسکتا۔ تاہم مسلم لیگ (نواز) حکومتی دعوے کی تردید کرتی رہی ہے ۔
اس ضمن میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کو ہوائی اڈے سے گرفتار کرکے سیدھا جیل بھیج دیا جائے گا اور اگر ایسے ہوا تو وہ بھی ایک اور ڈیل کا نتیجہ ہوگا۔ شہباز شریف کی لاہور آمد کے موقعہ پر استقبال کے انتظامات کے متعلق اتوار کے دن اسلام آباد میں مسلم لیگ کی مقامی تنظیم کا اجلاس بھی ہوا۔ مسلم لیگ (نواز) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ راولپنڈی ڈویژن کے مختلف شہروں اور صوبہ سرحد سے جلوس اکٹھے ہوکر لاہور روانہ ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ تاریخ کے اعلان میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑی بات نہیں تاریخ طے ہوجائے گی، انہیں ان کے لیڈر پر یقین ہے کہ وہ ضرور وطن آئیں گے۔ شہباز شریف کی واپسی کے اعلان کے بعد پاکستان کے اردو اخبار نوائے وقت میں ان کی واپسی کے متعلق بڑے اور رنگین اشتہارات بھی شائع ہو رہے ہیں۔ جس کے متعلق صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ یہ اشتہارات مسلم لیگ کی بیرون ممالک میں قائم شاخیں شائع کرا رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ دیگر اخبارات کو نہ اشتہار دیے گئے ہیں نہ کسی نے شائع کرنے سے کوئی انکار کیا ہے۔ واضع رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہا تھا کہ شہباز شریف جدہ جانے کے لئے پاکستان کبھی نہیں آئیں گے یعنی اگر وہ پاکستان آئے تو انہیں جدہ بھیج دیا جائے گا اور پھر وہ سعودی عرب سے باہر بھی نہیں جاسکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||